اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح مینڈیٹ دیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، آئی پی پی، ایم ڈبلیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ امجد ایڈووکیٹ بلامقابلہ اور متفقہ طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کے تعاون سے خطے کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
ایران کے صدر کے دورۂ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت تمام متعلقہ حلقے امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ماضی میں بھی مضبوط تھے اور مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں شروع کیا گیا ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کے مفاد میں اہم منصوبہ ہے اور امید ہے کہ حالات سازگار ہوتے ہی اسے مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات کے انعقاد کی حامی ہے اور کبھی بھی انتخابی عمل سے پیچھے نہیں ہٹی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی صرف انتخابی شیڈول پر نظرثانی چاہتی تھی تاکہ سیاسی جماعتوں کو مشاورت اور مسائل کے حل کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام سیاسی اور عوامی مسائل کا حل جمہوری اور سیاسی طریقہ کار میں موجود ہے اور یہی راستہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ سے متعلق انہیں معلومات نہیں، تاہم یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ وہ پاکستان میں تخریبی مقاصد کے تحت آیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان مخالف سرگرمیاں بعض بیرونی قوتوں کے گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں اور ان سازشوں کو بے نقاب کرنا قومی ذمہ داری ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں سے ملک کے خلاف ہونے والی ہر سازش ناکام ہوگی اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔



