بیجنگ (شِنہوا) بیجنگ میں جاری چوتھی چائنہ انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو (سی آئی ایس سی ای) میں ہنی ویل کا 250 مربع میٹر پر محیط بوتھ شرکاء کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف کمپنی کی 4 سالہ شرکت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا بوتھ ہے، بلکہ اس کی 4 میں سے 3 نمائشی دیواریں مقامی شراکت داروں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔
تقریباً 100 کے قریب خام مال فراہم کرنے والے اور مصنوعات تیار کرنے والے چینی سپلائرز اور شراکت دار اس بوتھ پر نمایاں رہے جنہوں نے سیمی کنڈکٹرز، توانائی کے ذخیرے، ڈیٹا سنٹرز، جہاز سازی، کم کاربن توانائی اور سمارٹ مینوفیکچرنگ کی صنعتوں سے متعلق مصنوعات کی نمائش کی۔
امریکی صنعتی گروپ، جو چین میں 90 سال سے کام کر رہا ہے، کے لئے پیغام واضح تھا کہ چین میں غیر ملکی کمپنیاں اب اکیلے کام کرنے کے بجائے مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہیں۔
ہنی ویل چائنہ کے صدر یو فینگ نے شِنہوا کو بتایا کہ چین ہر صنعتی شعبے میں سب سے زیادہ جامع ملک ہے، اس لئے آپ کو ہر شعبے میں سپلائرز کا وسیع نیٹ ورک ملتا ہے۔ چین کی سپلائی چین لچکدار ہے اور معیار، لاگت، ترسیل اور ردعمل کی رفتار کے لحاظ سے عالمی سطح پر رہنما ہے۔
مختلف سپلائی چین کلسٹرز تشکیل پا چکے ہیں جیسے بوہائی خلیج، دریائے یانگسی طاس اور دریائے پرل طاس جو بہترین سپلائرز کی بھرپور دستیابی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ایسی بڑی مارکیٹ سے کون سی ملٹی نیشنل کمپنی نکلنا چاہے گی؟”
رواں سال کی نمائش میں ہنی ویل اور چین کی شینگ ہونگ پٹرو کیمیکل نے مشترکہ طور پر ایک آپریٹر نیویگیشن سسٹم متعارف کرایا جو بر وقت پیداواری صورتحال کو واضح کرتا ہے، آپریشنل تبدیلیوں کی پیش گوئی کرتا ہے اور بہترین اقدامات تجویز کرتا ہے۔ اس نظام نے 100 فیصد آٹومیشن کا ہدف حاصل کر لیا ہے، مینوئل آپریشنز کو 50 فیصد سے زیادہ کم کر دیا ہے اور صرف بھاپ کے استعمال کی مد میں سالانہ ایک کروڑ یوآن (تقریباً 14 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر) سے زیادہ کی بچت کی ہے۔
عالمی سپلائی چین میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باوجود ہنی ویل، این ویڈیا اور ایپل جیسی بڑی کثیر القومی کمپنیاں ااس نمائش کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے چین کے ساتھ اپنے طویل المدتی عزم کو اجاگر کر رہی ہیں اور وسیع صنعتی انضمام اور پرجوش سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اظہار کر رہی ہیں۔ان کمپنیوں کے لئے یہاں کامیابی کا مطلب دنیا کی سب سے مکمل سپلائی چین کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اور اس کے تیزی سے بدلتے ہوئے نظام کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے۔
کثیر القومی کمپنیوں نے باہمی فائدہ مند سپلائی نظام کے لئے چین پر انحصار مزید بڑھا دیا



