بیجنگ (شِنہوا) چین کے طیارہ بردار جہاز لیاؤننگ کی ایک ٹاسک فورس گہرے سمندر میں اپنی جنگی مشقیں مکمل کر کے بحفاظت اپنے مرکزی بندرگاہ واپس پہنچ گئی ہے۔
چینی بحریہ کے مطابق ٹاسک فورس نے ان مشقوں کے دوران جنوبی بحیرہ چین اور مغربی بحرالکاہل سمیت متعدد سمندری اور فضائی حدود میں کارروائیاں کیں جن میں طیارہ بردار جہاز سے طیاروں کی حکمت عملی پر مبنی پروازیں اور ٹاسک فورس کی تلاش و بچاؤ جیسی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور انعقاد شامل ہیں۔
ٹاسک فورس نے گہرے سمندر میں حقیقی جنگی تقاضوں کے مطابق فضائی بالادستی اور فضائی دفاعی کارروائیوں، سمندری حملوں، معاونت اور تحفظ کی کارروائیوں، جامع بچاؤ اور ہتھیاروں کے براہ راست استعمال سمیت دیگر مشقوں کا انعقاد کیا۔
چینی بحریہ کے مطابق یہ مشقیں اس کے سالانہ منصوبے کے مطابق معمول کی ایک کارروائی تھی جس کا مقصد اپنا مشن پورا کرنے کی صلاحیتیں مسلسل بہتر بنانا ہے۔ بحریہ نے مزید کہا کہ یہ مشقیں متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور طریقوں کے عین مطابق ہیں اور ان کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔
چینی بحریہ کا کہنا ہے کہ مشقوں کے دوران جاپانی بحری جہازوں اور طیاروں نے بار بار قریب آ کر ٹریکنگ اور نگرانی کی جس کی وجہ سے خلل پیدا ہوا اور اشتعال انگیزی ہوئی۔
بحریہ نے مزید کہا کہ لیاؤننگ ٹاسک فورس نے پورے عمل کے دوران انتہائی چوکس حالت برقرار رکھی، طیارہ بردار جہاز پر موجود طیاروں کے ذریعے مسلسل جنگی پروازیں کیں، جنگی ترتیب لچکدار طریقے سے تبدیل کی اور جاپانی فریق کے خطرناک اقدامات کا پیشہ ورانہ، مستحکم اور مناسب انداز میں جواب دیا۔
چین کے طیارہ بردار جہاز لیاؤننگ ٹاسک فورس کی گہرے سمندر میں جنگی مشقیں مکمل



