مذہبی حقوق کی خلاف ورزی پر قیدی جیل حکام کیخلاف ہرجانے کا مقدمہ نہیں کر سکتا:امریکی سپریم کورٹ

واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق جیل قیدی اپنے مذہبی عقائد کی خلاف ورزی پر جیل حکام کے خلاف مالی ہرجانے کا مقدمہ نہیں کر سکتا۔

کیس کے مطابق لوزیانا کے سابق قیدی ڈیمون لینڈور کے مذہبی اعتقادات کے برخلاف اس کے ڈریڈ لاکس(بالوں کی مخصوص لٹیں) زبردستی کاٹ دئیے گئے تھے ۔ عدالت نے اس اقدام کو قابل افسوس قرار دیا، تاہم کہا کہ وفاقی قانون قیدیوں کو ایسے معاملات میں مالی معاوضہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ قانون کے تحت مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مالی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔



  تازہ ترین   
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش
محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر