چھونگ چھنگ (شِنہوا) جون کے اوائل میں چھونگ چھنگ میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بارش کے بعد موسم نسبتاً ٹھنڈا ہو گیا جس نے فیلڈ ریسرچ کے لئے سازگار حالات فراہم کئے۔ اسی دوران ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایگرونومی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ژو یونگ ہونگ نے اپنی ٹیم کے ساتھ چھونگ چھنگ کے جیانگ جن ضلع کے بائی شا ٹاؤن میں واقع ایک زرعی ماڈل بیس کا دورہ کیا تاکہ شکر قندی کی فصلوں میں کیڑوں کے انتظام سے متعلق تحقیق کی جا سکے۔تجرباتی کھیتوں میں ژو یونگ ہونگ نے اپنی ٹیم کے ارکان اور پاکستانی سکالرز کے ساتھ مل کر شکر قندی کے درجنوں پودے لگائے اور ہر تجرباتی قطعہ کو احتیاط سے لیبل کیا۔ژو نے بتایا کہ مجموعی طور پر 65 اقسام کی آلو اور شکر قندی کی فصلیں لگائی گئی ہیں تاکہ مختلف اقسام کی خصوصیات اور کیڑوں کے خلاف ان کی مزاحمت کا مطالعہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق قدرتی ماحول میں تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں شکر قندی کی فصلوں میں کیڑوں کا حملہ بڑھ گیا ہے اور بعض کیڑوں نے کیمیائی ادویات کے خلاف مزاحمت بھی پیدا کر لی ہے جس پر زرعی ماہرین کی توجہ بڑھ رہی ہے۔ژو کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ پاکستانی طلبہ بھی فیلڈ ورک میں فعال طور پر شریک ہیں۔منصوبے میں شامل کئی پاکستانی طلبہ نے بتایا کہ اس تحقیق کا مقصد شکر قندی میں کیڑوں اور بیماریوں کے نئے رجحانات کا جائزہ لینا اور نامیاتی اور ماحول دوست طریقہ کار کے ذریعے کیڑوں کے کنٹرول کے حل تلاش کرنا ہے۔ اس کا مقصد فصل کے لئے بہتر ماحول فراہم کرنا اور کیمیائی ادویات کے استعمال اور باقیات کو کم کرنا ہے۔ماحولیاتی حالات میں تبدیلی اور زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ فصلیں کیڑوں اور بیماریوں کے نئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب کیڑوں کا انتظام زیادہ درست، موثر اور ماحول دوست ہو رہا ہے جو زرعی جامعات کی اہم تحقیقاتی ترجیح بن چکا ہے۔ان محققین میں پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی پوسٹ ڈاکٹریٹ سکالر قراۃالعین بھی شامل ہیں۔ ان کی تحقیق آلو اور شکر قندی میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت بہتر بنانے کے لئے نینو مواد کے استعمال اور بیجوں کے معیار کو بہتر بنانے والی جدید ٹیکنالوجیز پر مرکوز ہے۔قراۃالعین نے کہا کہ چین نے بین الاقوامی سکالرز کے لئے بہترین تعلیمی اور تحقیقی ماحول فراہم کیا ہے۔ مجھے بیجنگ فارن سٹوڈنٹ سکالرشپ اور پاکستان کے فیصل آباد میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے اعزازی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ چین میں میرا تعلیمی سفر میری سائنسی تحقیق کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ان کے مطابق ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کی فصلوں پر تحقیق کرنے والی ٹیم مضبوط سائنسی بنیادوں اور جدید لیبارٹری سہولیات سے لیس ہے جو اسے پودوں اور جراثیم کے تعامل، سبز نینو ٹیکنالوجی اور پائیدار زرعی ٹیکنالوجیز پر تحقیق جاری رکھنے کے لئے بہترین مقام بناتی ہے۔قراۃالعین نے کہا کہ ان کی تحقیق کا مقصد پودوں، جراثیم اور نینو پارٹیکلز کے تعامل کے ذریعے فصلوں کی نشوونما، ماحولیاتی دباؤ کے خلاف مزاحمت اور بیماریوں سے بچاؤ کو بہتر بنانا ہے۔ میں ایسی ماحول دوست حکمت عملی تیار کرنا چاہتی ہوں جس سے پیداوار میں اضافہ، غذائی اجزاء کے بہتر استعمال اور بدلتے ہوئے ماحول میں فصلوں کی مضبوطی ممکن ہو سکے۔ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایگرونومی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے ڈین لو دیان چھیو کے مطابق پاکستانی سکالرز یونیورسٹی کے زرعی تحقیقی پروگراموں میں بڑھتی ہوئی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔لو نے کہا کہ حالیہ برسوں میں شکر قندی اور آلو کی بیماریوں پر کئی اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستانی محققین نے ان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے پاکستانی طلبہ نے چینی سپروائزرز کے ساتھ مل کر بین الاقوامی جرائد میں تحقیق شائع کی ہے۔ اس سے چین اور پاکستان کے تعلیمی تعاون کے عملی نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔گزشتہ برسوں میں چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔ پاکستان کا ایک ہزار زرعی گریجویٹس ٹریننگ پروگرام‘‘ چین میں جاری ہے جبکہ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان زرعی تعاون کے منصوبے مختلف خطوں میں پھیل رہے ہیں۔شانشی صوبے میں نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی نے حال ہی میں 355 پاکستانی زرعی ماہرین کے لئے ایک سالہ تربیتی پروگرام مکمل کیا ہے۔ پروگرام 5 اہم شعبوں پر مشتمل تھا جن میں بیج کی پیداوار، جانوروں کی بیماریوں کا کنٹرول، جینیاتی تحقیق اور سمارٹ ایگریکلچر جیسے شعبے شامل تھے۔ عملی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے یونیورسٹی نے 50 معروف زرعی کمپنیوں کی شمولیت سے تبادلہ پروگرام کا بھی اہتمام کیا۔ہوبے صوبے میں ہواژونگ زرعی یونیورسٹی نے پاکستان سے آنے والے سکالرز کے لئے ایک عملی اور تجرباتی تدریسی طریقہ اپنایا ہے۔ یونیورسٹی نے 85 شرکاء کے لئے فیلڈ بیسڈ تربیتی پروگرام منعقد ککیا جس میں انہیں ذہین ریپ سیڈ پیداوار کی ٹیکنالوجیز کا مطالعہ کرنے، زرعی ڈرونز چلانے اور خودکار ٹریکٹرز کے استعمال کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا گیا جس سے انہیں چین کی جدید زرعی ترقی کا براہ راست مشاہدہ ہوا۔آج کل قراۃالعین جیسے نوجوان پاکستانی سکالرز چین میں تعلیم اور سائنسی تعاون کے ذریعے اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔مستقبل کے حوالے سے قراۃ العین نے پائیدار زراعت اور فصلوں کی بہتری کے لئے جدید ٹیکنالوجیز پر اپنی تحقیق جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔قراۃالعین نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی تحقیق عملی زرعی حل میں تبدیل ہو جو کسانوں کو بہتر پیداوار حاصل کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے اور کیمیائی کھادوں اور ادویات پر انحصار کم کرنے میں مدد دے۔قراۃالعین نے چین اور پاکستان کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے کی بھی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں اور چینی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر پائیدار زرعی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
پاکستانی محققین کی چینی یونیورسٹی ٹیم کے ساتھ فصلوں کے کیڑوں کے خلاف نینو مواد اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق



