کراچی(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 نہ صرف معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے واضح سمت فراہم کرتا ہے جبکہ بجٹ پر آنے والا مجموعی ردعمل حوصلہ افزا اور مثبت رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران معاشی اشاریوں میں مزید بہتری کی توقع ہے اور پاکستان سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے ،پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آن لائن خطاب اور ابتدائی عوامی پیشکش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ نے سفر کی درست سمت کی نشاندہی کر دی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کیسے ہو گی۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث جاری ہے ، تاہم حکومتی پالیسیوں کابنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی گونج سنائی دے رہی ہے ، جو ملکی معیشت کے بارے میں بہتر ہوتے ہوئے کاروباری جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان جیسا منافع دنیا کی کسی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں نہیں ہے ۔محمد اورنگزیب نے علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل پر امریکا اور ایران کی قیادت نے اعتماد کیا۔ ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر آئندہ جمعے دستخط ہوں گے ۔ گزشتہ 3 ماہ سے پاکستان اس معاہدے کی تگ دو کر رہا تھا۔انہوں نے سروس لانگ مارچ ٹائرز کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ایسے وقت میں آگے بڑھا جب دنیا کورونا وبا کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار تھی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نجی شعبے کی صلاحیت کا مظہر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب پاک چین اقتصادی تعاون حکومتی سطح سے آگے بڑھ کر نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط تک پھیل رہا ہے ، جس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری نے کہا کہ حکومت نے معاشی دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کے باوجود ایک متوازن اور مثبت بجٹ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس کے خاتمے سمیت متعدد اقدامات کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لیے ریلیف کا باعث بنیں گے ، جس سے سرمایہ کاری کے ماحول میں مزید بہتری آئے گی۔ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے ان کے مطابق نئی کمپنی کی لسٹنگ سے نہ صرف چینی سرمایہ کاروں بلکہ پاک چین مشترکہ کاروباری منصوبوں کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی، جبکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے جاری اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔رواں سال پی ایس ایکس میں جین زی کی جانب سے متعدد نئے اکاؤنٹس کھلوائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان ‘تیل کو بہنے دو’نے عالمی منڈیوں میں تبدیلی رونما کی ہے ۔دریں اثنا سروس لانگ مارچ کے سی ای او عمر سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں بہت کم ایسی کمپنیاں ہیں جو خاندانی اقدار اور پیشہ ورانہ مہارت کو اس کامیابی سے یکجا کر پاتی ہیں۔ سروس گروپ کی کمپنیوں کی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مجموعی مارکیٹ کیپ 1ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔



