اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2026 کے نو ماہ میں انسٹالڈ کپیسٹی میں چار ہزار میگاواٹ سے زائد اضافہ ہوا، مالی سال 2025 میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 45 ہزار 782 میگاواٹ تھی۔ مالی سال 2026 میں رینیوایبل انرجی کے شیئر میں اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ بجلی تھرمل ذرائع سے 46.9 فیصد پیدا کی گئی، 30.1 فیصد پن بجلی پیدا کی گئی، 18.5 فیصد بجلی جوہری توانائی سے ، 4.5 فیصد بجلی رینیوایبل انرجی سے پیدا کی گئی۔ بجلی کے استعمال میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا اور 83 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی استعمال ہوئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 80 ارب 81 کروڑ یونٹس تھی۔
گھریلو صارفین نے سب سے زیادہ بجلی استعمال کی لیکن استعمال میں گزشتہ سال کے مقابلے کمی آئی اور انہوں نے 47.5 فیصد بجلی استعمال کی جو مالی سال 2025 کے اسی مدت کے دوران 49.6 فیصد تھی۔ صنعت کی بجلی کے استعمال میں اضافہ ہوا جو 2025 کے نو ماہ کے دوران 26.3 فیصد تھا اور 2026 میں بڑھ کر 31.5 ہو گیا، زرعی شعبے کا استعمال 3.1 فیصد اور تجارتی شعبے کا 8.4 فیصد رہا۔ زراعت کے شعبے میں بجلی کے استعمال میں 42.3 فیصد تک کمی آئی۔ چھ جوہری بجلی گھروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3 ہزار 530 میگاواٹ ہے جنہوں نے 17 ارب 13 کروڑ 70 لاکھ یونٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کی۔
شعبہ گیس کے بارے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں مالی سال 2026 کے نو ماہ میں 2929 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال ہوئی، پاور سیکٹر نے سب سے زیادہ 924 ایم ایم سی ایف ڈی ، گھریلو صارفین نے 772 ایم ایم سی ایف ڈی ، کھاد کے کارخانوں نے 764 ایم ایم سی ایف ڈی ، جنرل انڈسٹری نے 382 ایم ایم سی ایف ڈی ، سی این جی سیکٹر نے 49 اور کمرشل سیکٹر نے 38 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی۔ پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں 3.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے مجموعی طلب کا 82.5 فیصد استعمال کیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بڑھ کر 13.64 ملین ٹن ہو گئیں جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 13.17 ملین ٹن تھیں۔ قدرتی گیس اور آر ایل این جی کی کھپت بالترتیب 2,316 اور 613 ایم ایم سی ایف ڈی رہی، گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2,345 اور 798 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ کوئلے کی کھپت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 21.41 ملین ٹن تک پہنچ گئی، یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 16.17 ملین ٹن تھی۔



