اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات اور پری بجٹ بریفنگ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتی اور آئینی طور پر پابند ہے کہ اپوزیشن کے سوالات کے جواب دے تاہم اس کے لیے مثبت ماحول ضروری ہے ۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس مسئلے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے ۔ سرحد پار سے ہدایات پر حالات خراب کیے جا رہے ۔وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے آزاد کشمیر سے 38 مطالبات پیش کیے گئے جن میں سے 35 تسلیم کر لیے گئے ۔ آزاد کشمیر میں عوام کو 3 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت 2 ہزار روپے فی من ہے ، اس سبسڈی کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کر رہی ہے ۔
وزیر قانون نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی بہتر ہوتا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ایوان میں تقاریر کے بجائے اے پی سی میں شرکت کرتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، یہ وہی مہاجرین ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا اور پاکستان میں آباد ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سرحد پار سے ہدایات پر حالات خراب کیے جا رہے ہیں، اس حساس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے ۔ گلگت بلتستان میں انتخابی عمل سے متعلق دعوے درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی مدت مکمل ہو چکی ہے ، ہم نے بار بار اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت دی ہے اور آئینی عمل کے لیے دوبارہ دعوت دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے جسے روکا جانا چاہیے ، اور اسی احتجاج کے طور پر اپوزیشن اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کرے گی۔



