شنگھائی (شِنہوا) چین کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ بڑا کروز جہاز اڈورا میجک سٹی ہفتے کے روز شنگھائی سے روانہ ہوا، جو بغیر کسی منزل کے کھلے سمندر میں ملک کا پہلا کروز سفر ہے۔
روایتی کروز سفر کے برعکس اس نئے سفر میں جہاز اپنے ہوم پورٹ یعنی شنگھائی ووسونگ کو انٹرنیشنل کروز ٹرمینل سے روانہ ہوا۔ جہاز بغیر کسی بندرگاہ پر رکے دوبارہ وہیں واپس آئے گا اور پورا سفر کھلے سمندر میں طے کرے گا۔
ہفتے سے پیر کی صبح تک جاری رہنے والا یہ تین دن اور دو راتوں پر مشتمل سفر مسافروں کو ایک پرسکون اور بھرپور تجربہ فراہم کرتا ہے، جس میں انہیں ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ تک پہنچنے کی جلدی نہیں۔
شنگھائی سے تعلق رکھنے والی ہو نامی ایک دفتری ملازمہ نے جہاز پر سوار ہوتے ہوئے کہا کہ “یہ بہت پرسکون محسوس ہو رہا ہے اور مجھے کام سے اضافی چھٹی لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ میں مقامی طور پر تیار کردہ اس بڑے کروز جہاز کا تجربہ کرنے کے لئے بے حد پرجوش ہوں۔”
جہاز کے آپریٹر نے مسافروں کی تفریح کے لئے مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا ہے، جن میں سٹینڈ اپ کامیڈی شو، جادو کے کرتب، تھیم پارٹیاں اور رات گئے کھانے کی سہولیات شامل ہیں۔ مسافروں کے آرام کو یقینی بنانے کے لئے جہاز کی گنجائش کا صرف 80 فیصد حصہ استعمال کیا گیا جبکہ مسافروں کی اوسط عمر 47 سال رہی جو روایتی روٹس پر 55 سال کی اوسط عمر سے کم ہے۔
جمعہ کے روز شنگھائی نے اس نوعیت کے کروز سفر کے لئے داخلے و اخراج کا چین کا پہلا اجازت نامہ جاری کیا۔ اگلے ہی روز مسافروں کے لئے کسٹمز اور سرحدی جانچ کے آسان اور تیز تر انتظامات بھی فراہم کئے گئے۔
شنگھائی میونسپل ٹرانسپورٹیشن کمیشن کے عہدیدار تونگ دان ینگ نے کہا کہ بغیر کسی منزل کے کروز سفر روایتی کروز سفر کا سادہ متبادل نہیں بلکہ ایک بالکل نئی سیاحتی پیشکش ہے، جس میں جہاز خود ہی منزل بن جاتا ہے اور یوں کھپت اور سیاحت کا ایک نیا منظرنامہ تشکیل پاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چین میں کروز سیاحت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ 2025 میں کروز مسافروں کی مجموعی آمدورفت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین کے مقامی تیارکردہ بڑے کروز جہاز کا شنگھائی سے بغیر منزل کے پہلا سفر



