چینی سفارت خانے کا نیوزی لینڈ کے اراکین پارلیمان پر سفری پابندی کے بعد ایک چین کے اصول پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ

ویلنگٹن (شِنہوا) نیوزی لینڈ میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ “جو بھی تائیوان کے مسئلے پر سرخ لکیر عبور کرے گا، اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
حال ہی میں چین کے تائیوان خطے کا دورہ کرنے والے نیوزی لینڈ کے چند اراکین پارلیمان پر سفری پابندیاں عائد کئے جانے کے ردعمل میں چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق مذکورہ اراکین پارلیمان نے حال ہی میں اپنی پارلیمانی حیثیت میں چین کے تائیوان خطے کا دورہ کیا، حالانکہ چین نے اس حوالے سے اپنی شدید تشویش، سخت مخالفت اور بار بار پیشگی انتباہات کا اظہار کیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ اس دورے میں ان اراکین پارلیمان نے مقامی سیاسی قیادت کی متعدد اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں جبکہ ان کے بیانات اور سرگرمیوں کو مقامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں کوریج ملی۔ اس کے نتیجے میں سنگین منفی سیاسی اثرات مرتب ہوئے اور ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی حکومت اور “تائیوان کی آزادی” کی حامی قوتوں کو غلط پیغام گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اراکین پارلیمان کے اقدامات ایک چین کے اصول کی خلاف ورزی اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔” ترجمان کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کے متعلقہ قوانین کے تحت چین نے متعلقہ افراد کے خلاف اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں چین، ہانگ کانگ اور مکاؤ میں داخلے پر پابندی بھی شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایک چین کا اصول عالمی برادری کا متفقہ موقف اور بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی ضابطہ ہے جبکہ یہی اصول چین اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کی سیاسی بنیاد بھی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ایسے وقت میں جب تائیوان میں ڈی پی پی حکومت 1992 کے اتفاق رائے سے دور ہٹ رہی ہے، ایک چین کے اصول کو کھلے عام چیلنج کر رہی ہے اور “تائیوان کی آزادی” کے راستے پر مزید آگے بڑھ رہی ہے، ایک چین کے اصول پر سختی سے عملدرآمد پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ “اراکین پارلیمان عام شہری نہیں ہوتے۔ چین ہمیشہ ان ممالک کے قانون ساز اداروں کے ارکان کے تائیوان کے دوروں کی مخالفت کرتا آیا ہے جن کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور نیوزی لینڈ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔” انہوں نے کہا کہ “نیوزی لینڈ کو اس معاملے پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔”
ترجمان نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا حقیقی احترام کریں اور ایک چین کے اصول کی مکمل پاسداری کریں۔



  تازہ ترین   
امریکی فوجیوں کے موبائل فون ضبط کرنے پر غور
نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی
نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا: میاں عامر محمود
لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق
تربت سے دو روز قبل اغوا ہوئے 4 پنجابی اور 2 پشتون مزدوروں کی لاشیں برآمد
صدر آصف زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ
جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر