اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)وفاقی آئینی عدالت نے سیمنٹ پیداوار پر رائلٹی نفاذ کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت صرف معدنیات (منرل) پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے ، فنشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی کا نفاذ بادی النظر میں ٹیکس کے مترادف معلوم ہوتا ہے ۔
عدالت نے پنجاب حکومت کے رائلٹی سے متعلق فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت فنشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے ، رائلٹی سیمنٹ کی بوری کے بجائے معدنیات پر وصول کی جانی چاہیے ۔ لاء افسران حکومت کو آگاہ کریں کہ رائلٹی کے نفاذ کا یہ طریقہ مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیئے کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کے نفاذ کا بوجھ بالآخر عوام پر پڑے گا، فیکٹری مالکان اضافی لاگت صارفین سے وصول کریں گے ۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی استدعا پر حکومت سے نئی ہدایات کے لیے مہلت دے دی۔



