تعز(نیشنل ٹائمز)یمن کے جنوبی علاقے تعز کے المہنج کیمپ میں خوراک کی شدید قلت نے بے گھر خاندانوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔ 65 سالہ سعیدہ محمد اپنے نواسوں کی بھوک مٹانے کیلئے درختوں کے پتے جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی غذائی پروگرام کی امداد چھ ماہ قبل بند ہونے کے بعد خاندان فاقوں کا شکار ہے ۔ سعیدہ محمد پتوں کو پانی اور نمک کے ساتھ ابال کر بچوں کو کھلاتی ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اتنے عرصے سے گوشت نہیں کھا سکے ، اس کا ذائقہ بھی بھول چکے ہیں۔ ناقص خوراک کے باعث بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
یمن :بھوک سے مجبور خاندان درختوں کے پتے کھانے لگے



