تحریر: آفاق فاروقی
سان ڈیاگو کی مسجد اور مدرسے پر ہونے والا حملہ صرف ایک کرائم نہیں، ایک سماجی و نفسیاتی المیہ بھی ہے، تین نمازی مارے گئے، دو حملہ آور نوجوان بھی مارے گئے،اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر جذباتی بحثوں میں بھلا دیا جاتا ہے کہ موت، موت ہوتی ہے،چاہے وہ عبادت گاہ میں مارے جانے والے بے گناہوں کی ہو یا نفرت کے اندھے غصے میں خود کو تباہ کر لینے والے نوجوانوں کی،دونوں طرف انسان مرتے ہیں، دونوں طرف مائیں روتی ہیں، دونوں طرف خاندان بکھرتے ہیں
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے،آخر انسان اتنی ترقی کے باوجود اندر سے اتنا غیر محفوظ کیوں ہے؟ چاند پر پہنچنے والی تہذیبیں، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ، انٹرنیٹ، عالمی معیشت ،سب کچھ موجود ہے، مگر دلوں میں خوف، غصہ اور شناخت کی جنگیں بڑھتی جا رہی ہیں
تاریخ دان کہتے ہیں کہ معاشرے صرف معاشی بحرانوں سے نہیں ٹوٹتے، وہ اس وقت ٹوٹتے ہیں جب لوگ ایک دوسرے کو “دشمن” سمجھنا شروع کر دیتے ہیں،جب سیاست، مذہب اور میڈیا مل کر خوف کو شناخت میں بدل دیں تو پھر عبادت گاہیں، اسکول، یونیورسٹیاں، بازار ،سب میدانِ جنگ بننے لگتے ہیں
امریکہ ایک امیگرنٹ سوسائٹی ہے،یہاں مختلف نسلیں، مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں رہتی ہیں،یہی اس ملک کی طاقت بھی ہے اور آزمائش بھی،ایسے میں اگر نفرت کی سیاست بڑھتی ہے، اگر ہر انتخاب سے پہلے خوف کو ہوا دی جاتی ہے، اگر “دوسرے” کو خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو اس کا اثر صرف مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں یا کسی ایک گروہ پر نہیں پڑتا، پورا معاشرہ عدمِ اعتماد کا شکار ہو جاتا ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ میں سیاسی تقسیم اس وقت بہت گہری ہو چکی ہے،مہنگائی، بے روزگاری، عالمی طاقتوں کا دباؤ، چین کا ابھار، مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، اندرونی سیاسی تناؤ ،یہ سب عوامل عوامی غصے کو بڑھاتے ہیں،ایسے ماحول میں بعض اوقات انتہاپسند بیانیے آسانی سے جگہ بنا لیتے ہیں،لوگ اپنے مسائل کا ذمہ دار کسی “دوسرے” کو سمجھنے لگتے ہیں،کبھی امیگرنٹس، کبھی مسلمان، کبھی یہودی، کبھی سیاہ فام، کبھی سفید فام
نفسیات دان کہتے ہیں کہ جب نوجوان خود کو تنہا، غیر متعلق یا ناکام محسوس کرتے ہیں تو وہ کسی سخت نظریے یا نفرت انگیز شناخت کی طرف جلد مائل ہو سکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انتہا پسندی اکثر نوجوان ذہنوں کو شکار بناتی ہے،ایسے لوگ صرف دوسروں کو نہیں مارتے، وہ اپنی ہی زندگیاں بھی تباہ کر دیتے ہیں
لیکن اس سارے اندھیرے میں ایک اہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آوروں کو سپورٹ نہیں کیا، انہیں فوراً روکا گیا،یہی وہ فرق ہے جو ایک مہذب ریاست اور ہجوم میں ہوتا ہے،اگر ریاست خود نفرت کا حصہ بن جائے تو پھر معاشرے خانہ جنگی کی طرف جاتے ہیں،مگر جب قانون سب کے لیے برابر کھڑا ہو تو امید باقی رہتی ہے
مسلمان کمیونٹی کے لیے بھی اس واقعے میں ایک بڑا سبق ہے،امریکہ نے کسی کو مذہب بدلنے کے لیے نہیں بلایا،لوگ یہاں تعلیم، روزگار، تحفظ اور بہتر مستقبل کی تلاش میں آئے ہیں،اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے کردار، اپنے رویے اور اپنے سماجی تعلقات سے یہ ثابت کریں کہ وہ اس معاشرے کے پرامن، ذمہ دار اور تعمیری شہری ہیں،صرف شکایت کافی نہیں، تعلقات بنانا بھی ضروری ہے
انٹر فیتھ ڈائیلاگ آج پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے، مگر ایسا ڈائیلاگ جس میں کچھ اچُکے دو گروپوں کے درمیان رابطے کی قیمت وصول کرنے کے لیے کام نہ کررہے ہوں، جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کچھ لوگ انٹرفیتھ ڈائیلاگ کو کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں ، مسجدوں کو چرچوں سے، سینیگاگ کو مندروں سے، مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے، امیگرنٹس کو مقامی آبادی سے بات کرنی ہوگی۔ خوف خاموشی میں بڑھتا ہے، مگر تعلق گفتگو سے بنتا ہے
امریکہ کی اکثریت آج بھی لبرل، ماڈرن اور سیکولر اقدار پر یقین رکھتی ہے،یہاں کے قوانین اب بھی مذہبی آزادی کی حفاظت کرتے ہیں،اگر پورا معاشرہ واقعی کسی ایک مذہب کے خلاف ہو جاتا تو پھر یہاں کروڑوں امیگرنٹس کا جینا ناممکن ہو جاتا،حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ امن چاہتے ہیں، مگر خاموش اکثریت اکثر شور مچانے والی انتہاپسند اقلیت کے سامنے کمزور نظر آنے لگتی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی نفرت سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں،روم ہو یا بغداد، برلن ہو یا بیروت ،جب معاشرے اپنے اندر خوف اور تقسیم کو بڑھنے دیتے ہیں تو ان کی معیشت، سیاست اور سماجی استحکام سب متاثر ہوتے ہیں
اور ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگیں، نفرتیں اور شناخت کی لڑائیاں زیادہ تر غریب طبقوں کو نگلتی ہیں،اشرافیہ اکثر کاروبار بھی کرتی ہے، تعلقات بھی بناتی ہے، اور اقتدار بھی بانٹ لیتی ہے،مرنے اور لڑنے کے لیے عام لوگ رہ جاتے ہیں ،چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا ہندو۔
اسی لیے آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ کون سا مذہب جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ انسانیت ہارنے نہ پائے،کیونکہ اگر عبادت گاہیں خوف کی علامت بن گئیں، اگر نوجوان نفرت میں خود کو اڑانے لگے، اگر سیاست صرف تقسیم پر کھڑی ہو گئی، تو پھر ترقی، ٹیکنالوجی اور طاقت بھی کسی معاشرے کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں
امن صرف قانون سے نہیں آتا، اعتماد سے آتا ہے۔ اور اعتماد صرف تب بنتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کو دشمن نہیں، انسان سمجھنا شروع کریں



