تحریر: عرفان مجید
تصاویر: محمد عظیم شاہ بخاری
ملتان میں ابدالی روڈ پر پٹرول پمپ کے ساتھ ایک صاف ستھرا قبرستان موجود ہے، جہاں لال پتھر سے بنی قبروں میں اپنے وقت کے حکمران سو رہے ہیں۔
یہ درانی/سدوزئی خاندان کا نجی قبرستان ہے، جہاں ماضی کی کئی داستانیں دفن ہیں۔
خطۂ ملتان قدیم ایام سے ہی ہندوستان کا سرحدی شہر ہونے کی نسبت صدیوں تک بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا۔ ہندوستان پر لشکر کشی کرنے والے تمام حملہ آوروں نے پہلے اسی شہر کا پانی پیا۔
مرزا ابنِ حنیف کے مطابق:
“پرانے زمانوں میں افغانستان کے ساتھ جن جن راستوں یا پہاڑی دروں کے ذریعے تجارت ہوتی تھی، ان میں #درہ_گومل کو ایک مخصوص حیثیت حاصل تھی۔
گومل کا درہ دریائے گومل کی راہ سے گزرتا تھا اور اس درے کا راستہ ڈیرہ جات کے علاقے سے ہوتا ہوا ملتان پہنچتا تھا۔ اسی طرح پرانے وقتوں میں ایک اور تجارتی راستہ بھی تھا، جو سلسلۂ کوہِ سلیمان کے #سخی_سرور کے درے سے گزرتا ہوا ملتان پہنچتا تھا۔ یہی راستہ مغربی جانب #قندھار سے ملتا تھا اور وہاں سے ایران سے۔ مذکورہ راستوں کے ذریعے ہی تاریخی و ماقبل تاریخی ادوار میں تاجروں کے قافلے ملتان آتے جاتے تھے۔ آبی شاہراہوں کے ذریعے آمدورفت اس کے علاوہ تھی۔”
قدیم ایام میں افغانستان، ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے ملتان آنے کے جو تجارتی راستے تھے، دراصل وہی حملہ آوری کے راستے بھی تھے۔ گویا یہ راستے یا درے ان مہم جو سپہ سالاروں کو حملے کی دعوت دیتے تھے۔ ہندوستان پر محمود غزنوی کے حملہ آور ہونے سے بھی پہلے ایران، یونان اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام حملہ آور انہی راستوں سے ہوتے ہوئے ملتان آئے اور پھر ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرف پیش قدمی کی۔
افغانستان، ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے ہندوستان کی سرزمین پر ایسے بہت سے حملہ آور آئے جو بعدازاں اس خطے کے حکمران بنے اور طویل عرصے تک یہاں حکومت کرتے رہے۔ محمود غزنوی کے پے در پے حملوں اور بعدازاں احمد شاہ ابدالی کی فتوحات نے تو افغان قبائل کے لیے ہندوستان پر لشکر کشی اور یہاں حکومت کرنے کا راستہ ہی کھول دیا تھا۔

ملتان، جو سلاطین کے عہد میں ہندوستان کا اہم ترین سرحدی صوبہ تھا، بابر کے ہاتھوں ابراہیم لودھی کی شکست کے ساتھ ہی مغل قلمرو میں شامل ہو گیا تھا، لیکن ہم آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں کہ دہلی میں ابھی مغلوں کے اقتدار کا سورج گہنایا نہیں تھا مگر #صوبہ_ملتان مغلوں کی دسترس سے نکل کر تختِ کابل کے زیرِنگیں آ چکا تھا۔
جی ہاں! دہلی میں مغل حکومت کے ہوتے ہوئے بھی ملتان تختِ کابل کے زیرِ اثر آ گیا تھا۔ اس کہانی میں حیرت کا مرحلہ یہی ہے کہ صوبہ ملتان کو تختِ دہلی کی گرفت سے نکال کر #تخت_کابل کے زیرِنگیں لانے والے دراصل افغانوں کے وہی قبائل تھے جنہیں کبھی مغل حکمران ہی بے سروسامانی کے عالم میں افغانستان سے سرزمینِ ملتان میں لائے تھے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق افغان سدوزئی خاندان نے ملتان پر پچاس سال سے زائد حکومت کی اور اس خاندان نے ملتان کو متعدد حکمران دیے۔ افغانستان سے ملتان آنے والے اس سدوزئی خاندان میں احمد شاہ ابدالی جیسا سپہ سالار بھی پیدا ہوا، جس نے تمام افغان قبائل کو متحد کر کے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے احمد شاہ ابدالی کو بابائے افغان بھی کہا جاتا ہے۔
خطۂ ملتان میں سدوزئی خاندان کی آمد اور یہاں ان کی حکومت کئی حوالوں سے یادگار اور تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔
اس خاندان نے ملتان کی تاریخی اور سیاسی زندگی پر جو گہرے اثرات مرتب کیے، وہ آج بھی کسی نہ کسی صورت زندہ ہیں۔ اسی خاندان کے آخری حکمران نواب مظفر خان، جنہوں نے سکھوں کے خلاف ایک تاریخی مزاحمتی کردار ادا کیا، کو سرائیکی خطے کا ہیرو بھی کہا جاتا ہے۔
یہ نواب مظفر خان کا تاریخی و مزاحمتی کردار ہی تھا جس کی وجہ سے وہ نہ صرف اس خطے کی آواز بنے بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے اس خطے کی سیاست کا ایک رخ بھی متعین کر گئے۔
کہا جاتا ہے کہ سدوزئی قبیلے کا مورثِ اعلیٰ اسد اللہ خان المعروف امیر سدو خان غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔
اسد اللہ خان کی پیدائش 1558ء میں ہوئی۔ اسی اسد اللہ خان المعروف سدو خان کی اولاد بعدازاں سدوزئی کہلائی۔ سدوزئی خاندان کے مورثِ اعلیٰ اسد اللہ نے اپنے علاقے کے افغان قبائل کو متحد کیا اور افغانستان و ایران کو ملانے والی شاہراہ کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ صفوی تاجدار شاہ عباس صفوی نے اسے امیر سدو کے خطاب سے نوازا اور قندھار کے شمال مشرق میں واقع علاقہ #صفا کی حکومت بھی عطا کی۔
امیر سدو کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا خواجہ خضر خان قبیلے کا سردار بنا۔ خضر خان، جو اپنے علاقے میں خواجہ خضر کے نام سے معروف تھا، ایک درویش آدمی تھا اور اسے اپنے علاقے میں بڑا احترام حاصل تھا۔ اپنے درویش مزاج کی وجہ سے اس نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور حکومت اپنے چھوٹے بھائی خان مودود کے حوالے کر دی۔
خان مودود کے بعد شاہ حسین سدوزئی قبیلے کا سردار بنا، مگر خضر خان کے بیٹے سلطان خداداد خان نے علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ ایک خونریز جنگ کے بعد شاہ حسین کو شکست ہوئی اور سلطان خداداد نے صفا پر قبضہ کر لیا۔
شاہ حسین نے خواص خان، حاکمِ قندھار، سے امداد طلب کی اور اس کی بھیجی ہوئی فوج کی مدد سے سلطان خداداد خان کو صفا سے بھگا کر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس شکست کے بعد سلطان خداداد خان ایران چلا گیا اور اصفہان پہنچ کر شاہ عباس صفوی کو صفا پر حملے کے لیے اکسایا۔ صفوی تاجدار، جو پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھا، اس نے فوراً لشکر روانہ کر دیا۔
قندھار پر قبضے کے بعد سلطان خداداد خان نے شاہ حسین سدوزئی سے صفا بھی چھین لیا۔ ان دنوں مغل حکمران شاہ جہاں کابل گیا ہوا تھا اور اسے قندھار کے اپنی قلمرو سے نکل جانے کی اطلاع مل چکی تھی۔
شاہ حسین سدوزئی مغل بادشاہ سے کابل میں ملا اور قندھار پر دوبارہ حملے کی ترغیب دی۔ چنانچہ شاہ جہاں نے اپنے بیٹے اورنگزیب عالمگیر، جو ان دنوں ملتان کا گورنر تھا، کی سربراہی میں ایک لشکرِ جرار روانہ کیا۔ شاہ حسین سدوزئی بھی اپنے زیرِ اثر قبائل کے ہمراہ اورنگزیب کے ساتھ گیا۔ اورنگزیب نے کافی عرصہ شہر کا محاصرہ کیے رکھا مگر شدید سردی کے باعث مغل فوج حوصلہ ہار گئی اور محاصرہ اٹھانا پڑا۔
شاہ حسین سدوزئی کی حالت اس وقت قابلِ رحم تھی کیونکہ صفا سلطان خداداد کے پاس جا چکا تھا اور ایرانی اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ اس نے اورنگزیب کی طرف سے ملتان چلے جانے کی دعوت قبول کر لی۔ یوں اورنگزیب اسے ملتان لے آیا۔ ایک معقول رقم بطورِ وظیفہ مقرر کی گئی، اس کے علاوہ ملتان اور #رنگ_پور کے علاقے میں وسیع جاگیر بھی دی گئی۔
شاہ حسین سدوزئی، جو صفا اور خراسان کا خودمختار حکمران رہ چکا تھا، ملتان میں بادشاہ اور شہزادوں کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ ناموافق حالات اور صبر آزما مصائب و آلام نے بھی اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔
ایک بار وہ اورنگزیب عالمگیر سے ہم کلام تھا کہ ایک اور شخص نے اس کی بات کاٹ کر گفتگو کرنے کی کوشش کی۔ شاہ حسین سدوزئی نے اسے ڈانٹا تو اس شخص نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ اس پر شاہ حسین نے آدابِ شاہی کا خیال کیے بغیر اس پر تلوار کا ایسا بھرپور وار کیا کہ وہ وہیں دو ٹکڑے ہو کر گر پڑا۔
اس واقعے پر اورنگزیب عالمگیر بہت برہم ہوا۔ اگر اس کی سابق خدمات کا لحاظ نہ ہوتا تو شاید اسے قصاص میں قتل کر دیا جاتا۔ شاہ حسین سدوزئی اس کے باوجود بھی شاہی گرفت سے نہ بچ سکا اور اسے دربار میں حاضری اور سلامِ شاہی سے محروم کر دیا گیا، ساتھ ہی حکم ہوا کہ ملتان میں ہی رہے لیکن دربار میں حاضر نہ ہو۔
افغانستان سے ملتان آنے والے سدوزئی خاندان کی تاریخ کا سب سے بڑا ماخذ تذکرۃ الملوک ہے، جسے شہزادہ علی محمد خان نے تصنیف کیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ شاہ حسین سدوزئی، جو چھوٹے قد اور گندمی رنگت کا حامل ہونے کے باوجود بڑی نخوت رکھتا تھا، دراصل اس شخص کے طنز کو برداشت نہ کر سکا تھا۔
جب شاہ حسین معتوب ہو کر گھر بیٹھ گیا تو سدوزئی خاندان کے معتبرین نے اس کے چھوٹے بھائی سردار اللہ داد خان کو اپنا سربراہ تسلیم کر لیا۔ اس نے اپنی قوم کو خوب سنبھالا اور دربارِ شاہی سے ازسرِ نو تعلقات قائم کیے۔
اس کی وفات کے بعد سدوزئی قوم کی سربراہی سردار اللہ داد خان کے صاحبزادے نواب عابد خان کے حصے میں آئی اور اسے مغل حکومت کی طرف سے “وفادار خان” کا خطاب ملا۔ یہی عابد خان شاہ حسین سدوزئی کا وارث بھی تھا اور آگے چل کر اسی کی نسل نے ملتان پر طویل عرصے تک حکمرانی کی۔
شاہ حسین کی وفات کے بعد اسے اس کی تعمیر کردہ مسجد، جو آج بھی #ابدالی_مسجد کے نام سے معروف ہے، کے جنوب میں دفن کیا گیا، جس پر نواب عابد خان نے شاندار مقبرہ تعمیر کروایا۔ نواب عابد خان نے دریائے چناب کے کنارے ایک خوبصورت باغ بھی لگوایا، جسے “باغِ عابد خان” کہا جاتا تھا۔
شاہ حسین سدوزئی کو صفا میں شکست دینے والا سلطان خداداد خان 1078ھ تک بلا شرکتِ غیرے حکومت کرتا رہا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا سلطان حیات خان تخت نشین ہوا۔ اس نے اپنے والد کی پالیسی کے برعکس صفوی سلاطین سے تعلقات ختم کر کے اورنگزیب عالمگیر سے روابط استوار کیے۔



ایران کے تاجدار، جو قندھار کے چھن جانے کو بھلا نہیں سکے تھے، نے 1091ھ میں سلطان حیات خان پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ وہ جم نہ سکا اور شکست کھا کر صفا کی حکومت اپنے بھتیجے جعفر سلطان کے حوالے کر کے اہل و عیال سمیت ملتان آ گیا۔
اورنگزیب عالمگیر نے اسے بھی ملتان میں ایک بڑی جاگیر عطا کی اور وہ اس جگہ آباد ہوا جہاں آج ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی واقع ہے۔ سلطان حیات خان کی تحریک پر مغل افواج نے شہزادہ معزالدین کی قیادت میں قندھار پر دو تین حملے کیے، مگر کامیابی نہ ہو سکی۔ یوں وہ اپنی آباد کردہ کڑی میں خاموش زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔
ملتان کے اسی خاموش قبرستان میں آج بھی سدوزئی خاندان کے وہ کردار آسودۂ خاک ہیں، جنہوں نے کبھی تاریخ کا دھارا موڑنے کی کوشش کی تھی۔ وقت گزر گیا، سلطنتیں بکھر گئیں، مگر ان قبروں میں دفن داستانیں آج بھی ملتان کی مٹی میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔



