بیجنگ (شِنہوا) چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی) نے کہا ہے کہ اس نے عوامی صحت کے تحفظ کے لئے کاسمیٹکس کی درآمدات اور برآمدات کے معائنے اور قرنطینہ سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد جاری کر دیئے ہیں۔جی اے سی کے اہلکار لی جنگ سونگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یکم دسمبر 2026 سے نافذ العمل ہونے والے یہ نظرثانی شدہ قواعد پورے صنعتی سلسلے میں مربوط نگرانی کو مضبوط بنائیں گے، سرحد پار تجارت میں سہولت فراہم کریں گے اور نئے کاروباری ماڈلز کی ترقی میں مدد دیں گے۔لی نے کہا کہ ان نئے قواعد کے نفاذ کے ساتھ ملک بھر میں کسٹمز حکام ڈرگ ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بنائیں گے تاکہ درآمد شدہ اور برآمد شدہ کاسمیٹکس کی حفاظتی نگرانی کو ملکی ریگولیٹری نظام کے مطابق بہتر طور پر ڈھالا جا سکے۔لی نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ درآمدی ڈیکلریشن، موقع پر معائنہ اور لیبارٹری ٹیسٹنگ جیسے اہم طریقہ کار کو معیاری بنایا جائے گا جبکہ بندرگاہوں کے چیک پوائنٹس پر پائی جانے والی غیر معیاری مصنوعات کو قوانین اور ضوابط کے مطابق واپس یا تلف کر دیا جائے گا۔جی اے سی کے مطابق نظرثانی شدہ قواعد نمائش کے لئے رکھی جانے والی کاسمیٹکس کی کسٹمز نگرانی کو بھی آسان بناتے ہیں تاکہ مصنوعات کی پہلی بار پیشکش اور لانچنگ کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ اہل درآمد شدہ نمونوں اور نمائشی اشیاء کو تیز رفتار کلیئرنس اور مارکیٹ تک پہنچنے میں کم وقت کا فائدہ ملے گا جس سے صارفین کو نئی بین الاقوامی مصنوعات تک جلد رسائی حاصل ہو سکے گی۔کاسمیٹکس کی درآمدات اور برآمدات چین کی غیر ملکی تجارت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2025 میں ایسی تجارت کی کل مالیت 171.61 ارب یوآن (تقریباً 25.06 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.7 فیصد زائد ہے۔
چین میں عوامی صحت کے تحفظ کے لئے کاسمیٹکس کی تجارت کے قواعد و ضوابط سخت



