تہران(نیشنل ٹائمز) ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز میں ایرانی عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں، انہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ 14 نکاتی تجویز میں بیان کردہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ اختیار کی جانے والی کوئی بھی حکمتِ عملی مکمل طور پر بے نتیجہ ہو گی اور اس کا حاصل مسلسل ایک کے بعد ایک ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جتنی زیادہ تاخیر کرے گا، ، اتنی ہی اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ایران ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی طرح کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک تو دنیا بھی سمجھ چکی ہے کہ غلط حکمتِ عملی اور فیصلوں کے ہمیشہ غلط نتائج نکلتے ہیں، ہم ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، انھیں دیکھ کر حیرت ہو گی۔
دوسری طرف امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آج قومی سلامتی ٹیم کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ایران کے متعلق آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے جنگ بندی وینٹی لیٹر پر ہے، ابھی پراجیکٹ فریڈم کے دوبارہ آغاز کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، ایران کی نئی تجاویز احمقانہ ہیں، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران سے معاہدہ کرنا ممکن ہے، معاہدے تک ایران پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پسند نہیں آیا، سخت گیر قیادت کو جھکنے پر مجبور کروں گا، ایران نے خط میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا ذکر نہیں کیا، چین کے صدر آبنائے ہرمز مسئلے کے حل میں مدد کرنا چاہتے ہیں، چینی صدر سے ایران، تائیوان اور روس کے حوالے سے بات ہوگی، تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر بھی بات کروں گا۔



