بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے منگل کے روز بیجنگ میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ مذاکرات کئے۔صدر شی نے کہا کہ بیرونی ماحول میں کیسی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آئیں، چین اور تاجکستان ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے اچھے پڑوسی، ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے اچھے دوست اور ترقی کے لئے مل کر کام کرنے والے اچھے شراکت دار رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین-تاجکستان مستقل ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کے ذریعے دونوں ممالک اپنے مضبوط سیاسی باہمی اعتماد کا بھرپور اظہار کریں گے اور دونوں قوموں کے درمیان دیرپا دوستی کے لئے مضبوط ضمانت فراہم کریں گے۔انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر توجہ مرکوز کریں، اپنی ترقیاتی حکمت عملیوں کو مکمل طور پر ہم آہنگ کریں اور اپنے متعلقہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے مل کر کام کریں۔شی نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت اور سرمایہ کاری کے پیمانے اور معیار کو بہتر بنانا چاہیے اور اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے ماحول دوست توانائی، ڈیجیٹل اکانومی، سمارٹ شہروں، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور سائنسی و تکنیکی اختراع کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کی “3 شیطانی قوتوں” کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔صدر شی نے کہا کہ چین بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی میں تاجکستان کی شمولیت کا خیرمقدم کرتا ہے اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم ، چین-وسطی ایشیا میکانزم اور دیگر ڈھانچوں کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔
صدر شی کی تاجک صدر کے ساتھ بات چیت، ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم



