تحریر: عابد حسین قریشی
چند روز قبل کہانی کا اصل ہیرو کون کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا، جس میں بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے تک ایک مرد کی کہانی بیان کی، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی، کہ مرد ہی اس کہانی کا اصل ہیرو ہوتا ہے، مگر کچھ دوستوں نے یہ برمحل نکتہ اٹھایا کہ اگر ہیرو کے ساتھ ہیروئین نہ ہو تو اکیلا ہیرو تو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لہذا کہانی پر از سر نو غور کیا، تو دوستوں کی بات میں کچھ وزن محسوس کیا۔ جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے تو میں تو حضرت علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق کہ، وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں۔ میں نہ صرف عورت کے اس کہانی میں اہم رول کا قائل ہوں، بلکہ عورت کا احترام بھی کرتا ہوں اور بوقت ضرورت خوف زدہ بھی رہتا ہوں۔ اور شاید اسی احترام میں اپنی نئی کتاب تجاہل عادلانہ کا انتساب اپنی اہلیہ محترمہ کے نام کیا ہے۔ دراصل ہمارا معاشرہ اگرچہ male dominated ہے، مرد عمومی طور پر اکیلا ہی گھر کے اخراجات کا بوجھ اٹھاتا ہے، بلکہ اکیلا ہی پانچ سات افراد خانہ کا کفیل ہوتا ہے۔ اور بلاشبہ گھر کا سربراہ بھی ہوتا ہے، مگر زندگی کے اس سفر میں اسکی شریک حیات عورت اسکی صرف ہمسفر ہی نہیں ہوتی، بلکہ اسکی غمگسار ساتھی، با مروت اور با اخلاص، با وقار، اور وفادار دوست بھی ہوتی ہے۔ جو زندگی کی پرخار راہوں، پر پیچ پگڈنڈیوں، نشیب و فراز زمانہ، زمان و مکاں کی تپش سہنے میں اپنے مرد کی ہمرکاب ہوتی ہے۔ گھر کا تصور آتے ہی عورت کا تصور آتا ہے، اور عورت کے بغیر گھر کا تصور کچھ مکمل ہی نہیں ہو پاتا۔ عملی زندگی میں مرد کو عورت کے بغیر اگر بچے سنبھالنے پڑ جائیں تو وہ نہ کام کاج کرسکے نہ روزی روٹی کا بندوبست اور بالکل بے بس و محتاج نظر آتا ہے۔ عورت قربانی اور ایثار میں مرد سے بہت آگے ہے۔ بطور سول جج ایک واقعہ عورت کی قربانی اور ایثار کا بھلایا ہی نہیں جاسکتا۔ جب اس نے گارڈین شپ کے ایک معاملہ میں معذور بچہ خود رکھ کر صحت مند بچہ باپ کے حوالہ کر دیا۔ مرد اور عورت میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ گھر میں مرد کا اصل میں ایک ہی روپ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا باپ ہوتا ہے اور وہ بچوں کی تعلیم اور ترقی کے ایسے ایسے دلکش و دلفریب خواب دیکھتا ہے، کہ بیان سے باہر ہیں۔ مگر عورت کے کئی روپ ہیں۔ وہ ماں بھی ہے اور بیوی بھی، بہن بھی ہے اور بیٹی بھی۔ یہ چاروں روپ اور رشتے بیک وقت ایک ہی چھت تلے موجود ہوتے ہیں۔ عورت کا ہر رشتہ اور ہر روپ ہی کمال کا ہے، حسین و دلکش بھی ہے، قابل احترام بھی اور لائق تحسین و آفرین بھی۔ مرد اگر گھر کا صدر ہے تو عورت وزیر اعظم۔ سارا نظم و نسق تو عورت سنبھال رہی ہوتی ہے اور بعض اوقات تو مرد کی ساری محنت و جدو جہد کے باوجود وہ عورت کے سامنے محض ایک آئینی سا سر براہ ہی نظر آتا ہے۔ گھر کو گھر کا رنگ تو عورت ہی دے سکتی ہے، کہ وہ فطرتاً سلیقہ شعار اور سگھڑ ہوتی ہے، جبکہ مرد بیچارہ تو شلوار میں آزار بند بھی سلیقے سے نہیں ڈال سکتا۔ مرد اگر کمانے کی مشین ہے تو عورت اس کمائی کی رکھوالی اور اس کے مطابق زندگی کے معاملات ترتیب دینے والی ایڈمنسٹریٹر ہے۔ جو بیک وقت اولاد کی پرورش اور نگہداشت کرنے کے ساتھ اپنے خاوند کی دیکھ بھال اور غمگساری کا رول بھی نبھاتی ہے اور اسکی مشیر خزانہ و مشیر سیاسی و سماجی امور بھی ہوتی ہے۔ یہ دلچسپ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آتی ہے، کہ عورت اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے، انکا خیال رکھتی ہے، خود انہیں نہیں ڈانٹتی بلکہ باپ کا نام لیکر بچوں کو ڈراتی ہے۔ بچے بڑی بڑی شرارت کرکے یا حماقت کرکے ماں کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتے ہیں، اور ماں کو ہی اپنا ہمدرد اور دوست سمجھتے ہیں، جبکہ باپ بے چارے کو صرف بچوں کو ڈرانے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے، جسکی وجہ سے ساری عمر بچے باپ کے ساتھ فرینک ہی نہیں ہو پاتے۔مگر ایک بات طے شدہ ہے، کہ جس گھر میں مرد اور عورت کی باہمی انڈر سٹینڈنگ یا ذہنی مطابقت زیادہ ہوگی، اس گھر میں سکون ہوگا، چین ہوگا، اولاد بھی نارمل رہے گی، خوشحالی، خوش مزاجی، اور خوش کلامی غالب رہے گی۔ میاں بیوی بھی اگر ایک دوسرے کا دکھ سکھ شیئر نہیں کریں گے، تو پھر کیا دیواروں کو اپنے دکھڑے سنائیں گے۔ دراصل عورت، مرد کی ساتھی ہی نہیں ہوتی، وہ اسکے گھر کی ملکہ اور دل کی رانی بھی ہوتی ہے۔ عورت نازک آبگینوں کی مانند زیادہ حساس ہوتی ہے۔ چھوٹی بات کا بھی دل پر اثر لیتی ہے۔ عورت مرد کے سارے گناہ معاف کر دیتی ہے، سوائے بے وفائی کے۔عورت مرد کو منقسم نہیں دیکھ سکتی۔ اسے ایک ہی مرد پوری وفا کے ساتھ درکار ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات جو عورت کو مرد کے مقابلہ میں ممتاز کرتی ہے، کہ عورت جس مرد کے بندھن میں باندھی جاتی ہے، عمومی طور پر پوری وفا کے ساتھ اسی کے ساتھ زندگی باوقار انداز میں گزار دیتی ہے، مگر مرد بعض اوقات بے اعتبارہ بھی ہوتا ہے، یہ موقع ملنے پر باہر منہ مارنے سے بھی نہیں چوکتا۔ عورت کے بغیر خصوصاً بڑھاپے میں مرد کو اکلاپا مار دیتا ہے، مگر عورت یہ اکلاپا بخوبی کاٹ جاتی ہے، اسکی شاید یہ وجہ بھی ہے کہ عورت فطرتاً زیادہ صبر اور برداشت کرنے والی ہوتی ہے۔اور بہت سے معاملات میں خود کفیل بھی۔
بہرحال اگر مرد گھر کا ہیرو ہے تو عورت ہیروئین۔ لیکن اگر دونوں میں باہمی ناچاقی یامناقشت ہے، شکر رنجیاں یا بد گمانیاں ہیں، تو پھر نہ کوئی ہیرو اور نہ ہیروئین۔ بلکہ وہی گھر اذیت کدہ نظر آئے گا۔اور آخری بات، کہ عورت اپنی عزت اور self respect کے بارے میں بڑی conscious ہوتی ہے۔ ہمارے مردانہ غلبہ والے معاشرہ میں عورت کو اپنی عزت اور ناموس کی ہر قدم پر حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ کہ اس معاشرہ میں مرد کی ہوس زدہ آنکھیں ہر جگہ عورت کا پیچھا کرتی ہیں۔ اور کیا ستم ظریفی ہے کہ عورت اگر کسی ہوس زدہ واقعہ میں اپنی عزت بچا بھی جائے تو وہی مشکوک اور ملزم ٹھہرتی ہے اور اگر یہ ناموس نہ بچا سکے تو تب بھی وہی ملزم گردانی جاتی ہے۔



