ہیرا منڈی کی تاریخ، حقیقت اور متنازع بیانیہ

ہیرا منڈی کے بارے میں مختلف دعوے اور بیانیے سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہاں پشتون اور کشمیری خواتین کو لایا جاتا تھا، مگر اس حوالے سے تاریخی حقیقت کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔

ہیرا منڈی کی بنیاد ایک غلہ منڈی کے طور پر ہیرا سنگھ ڈوگرہ نے رکھی تھی۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ اس جگہ کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ تاریخی شواہد کے مطابق یہاں افغان اور پختون خواتین کی ایک بڑی تعداد “جنگی قیدیوں” یا “غلاموں” کے طور پر لائی گئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقامی پنجابی خواتین بھی اس پیشے کا حصہ بنتی گئیں۔

برطانوی دور میں جب ہیرا منڈی کو باقاعدہ طور پر ایک “ریڈ لائٹ ایریا” اور فوجی تفریح گاہ (چکلہ) میں تبدیل کیا گیا، تو یہاں کی نسلی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ British Indian Army نے اپنے فوجیوں کے لیے باقاعدہ چکلے قائم کیے، جہاں عورتوں کو لانے کے لیے ایک منظم نظام موجود تھا۔

اگرچہ کابل اور وسطی ایشیا کی خواتین اپنی منفرد خوبصورتی کی وجہ سے اشرافیہ یا مہنگے کوٹھوں کی زینت سمجھی جاتی تھیں، لیکن عددی لحاظ سے اکثریت مقامی پنجابی خواتین کی ہی تھی۔ برطانوی ریکارڈز اور اس دور کے ادب، خصوصاً روڈیارڈ کپلنگ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیرا منڈی میں ایک واضح درجہ بندی (Hierarchy) موجود تھی:

افغان، پختون اور کشمیری خواتین کو ان کے گورے رنگ اور خدوخال کی وجہ سے اعلیٰ طبقے کے گاہکوں اور برطانوی افسران کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔
مقامی پنجابی اور ہندوستانی خواتین عام فوجیوں اور مقامی گاہکوں کے لیے دستیاب تھیں اور تعداد میں سب سے زیادہ تھیں۔
مشرقی یوپی اور بہار سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی یہاں پہنچیں، کیونکہ اس دور میں برطانوی فوج کی ایک بڑی تعداد انہی علاقوں سے بھرتی ہوتی تھی۔
کشمیر اور شمالی علاقوں میں 1870ء اور 1880ء کی دہائیوں میں قحط اور نامساعد حالات کے باعث بہت سی کشمیری خواتین پنجاب آئیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد معاشی مجبوری کے تحت اس پیشے سے وابستہ ہوئی۔

تاریخی طور پر ہیرا منڈی میں خوبصورتی اور کشش کا معیار افغان اور پختون خواتین کو سمجھا جاتا تھا، اور وہ عموماً برطانوی حکمران طبقے، اعلیٰ فوجی افسران اور نوابوں تک محدود رہتی تھیں۔ تاہم تعداد کے لحاظ سے مقامی پنجابی خواتین ہی اکثریت میں تھیں۔

برطانوی دور میں اسے ایک منظم منڈی بنانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ دور دراز سے لائی گئی اور مقامی خواتین کو ایک ہی جگہ جمع کیا جائے تاکہ فوجیوں کی “صحت” (بیماریوں سے بچاؤ) کی نگرانی کی جا سکے۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ جذباتی یا نسل پرستانہ زبان کے بجائے تاریخی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ تاریخ پیچیدہ ہوتی ہے اور مختلف قومیتوں کے لوگ مختلف حالات کے تحت اس کا حصہ بنتے ہیں۔ جنگی حالات، معاشی مجبوری اور سماجی ڈھانچے—یہ سب عوامل اس تاریخ کو تشکیل دیتے ہیں۔

اس لیے ہیرا منڈی کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک متوازن اور تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، نہ کہ تعصب یا نفرت کی عینک سے۔



  تازہ ترین   
پاکستان کی کوششوں سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے: عباس عراقچی
سعودی عرب کی مشرقِ وسطیٰ میں تحمل کی اپیل، پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت
ایران سے جنگ کی حمایت نہیں کرتا، مجھے جنگیں پسند نہیں: امریکی صدر
چارسدہ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے معروف عالم دین مولانا ادریس جاں بحق
جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک
ایران کے یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے، فجیرہ پٹرولیم انڈسٹریل زون میں آگ بھڑک اٹھی
ایرانی جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان ایران کے حوالے کر دیئے گئے
آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز پر حملہ، پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا: ایرانی فوج





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر