برسلز (شِنہوا) نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے بحران پر امریکہ اور جرمنی کے درمیان نئی کشیدگی بھی سامنے آئی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرش میرس کو اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لئے جاری مذاکرات میں واشنگٹن کو “ذلیل” کر رہا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ وہ جرمنی سے تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اتحاد جرمنی میں اپنی فوجی تعیناتی سے متعلق امریکی فیصلے کی تفصیلات سمجھنے کے لئے امریکہ کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
ہارٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ یورپ کو دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ کرنا ہوگا اور مشترکہ سکیورٹی کے لئے زیادہ ذمہ داری سنبھالنا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اتحادی ممالک پہلے ہی اپنی مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاع پر خرچ کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کو اس بات پر اعتماد ہے کہ اتحاد دفاعی صلاحیت فراہم کرنے کی اپنی استعداد برقرار رکھے گا اور وہ اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جسے انہوں نے “ایک مضبوط نیٹو میں ایک مضبوط یورپ” قرار دیا۔
نیٹو نے جرمنی میں فوجیوں کی کمی پر امریکہ سے وضاحت مانگ لی



