يکم مئی 1993 ايم کيو ايم کے چيئرمين عظیم احمد طارق کی زندگی کا آخری دن ؟؟؟ 33 سال قبل ،ايم کيو ايم کے قتل ہونے والے چيئرمين عظيم احمد طارق پر موت کا خوف کيوں طاری تھا ؟؟؟

تحرير: رفعت سعید

33 سال قبل يکم مئی 1993 کا گرم ترين دن تھا ، صبح کے 3 بجے کرچی کے علاقہ دستگير فيڈرل بی ايريا ميں رہائش پزير ، صوبہ کی طاقتور ترين جماعت ، ايم کيو ايم کے روپوشی ترک کرنے والے چيئرمين عظيم احمد طارق کو انکے گھر پر نامعلوم افراد نے پراسرار حالات ميں قتل کر ديا تھا۔
ايم کيو ايم کے مرحوم چيئرمين، اس وقت کے صوبہ سندھ ميں تعينات ملٹری انٹلجنس ،ايم آئی، کے سربراہ برگيڈيئر امان کی کو ششوں سے روپوشی ترک کرنے پر آمادہ ہوئے تھے،انہيں مکمل تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی ، عظيم طارق مرحوم ، خفيہ اداروں کو آگاہ کرچکے تھے کہ اگر انہوں نے بکھری ہوئی ايم کيو ايم کو يکجا اور کارکنوں کو روپوشی ترک کرنے کی ہدايت کی تو؟ انہيں قتل کروا ديا جائے گا ، مگر اس وقت کی اسٹبلشمنٹ بہ زد تھی کہ مرحوم چيئرمين نہ صرف پارٹی کو فعال کريں بلکہ تمام کارکنوں اور مفرور ، روپوش رہنماؤں کے ساتھ ايک نئی ايم کیو ايم کی قيادت کريں،
اس مقصد کے تحت قتل سے دو مہينے قبل گلشن اقبال تھانہ کے عقب ميں ايک بنگلہ ميں عظيم طارق کو دفتر بنا کر ديا گيا، کشور زہرہ ، زرين مجيد ، بيگم سلمہ احمد ، حاجی شفيق الرحمن ، طارق جاويد ، ڈاکٹر سليم حيدر اور احترام الحق تھانوی ان کے مشير تھے، ايک شام ميری ان سے اس دفتر ميں تفصيلی ملاقات ہوئی ، گفتگو کر تے ہوئے خوف ان کے چہرے پر نماياں تھا ، وہ نام لئے بغير بار بار کہہ رہے تھے، ايجنسی والے نہيں جانتے، “وہ کتنا سفاک ہے” ميں ايسے ماحول ميں سياست نہيں کرنا چاہتا، دوران گفتگو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری رہے اور پھر وہ گہری سوچ ميں ڈوب گئے۔
ایم کیو ایم کے مرحوم چیئرمین عظیم احمد طارق کا 1992 کے فوجی آپریشن کے بعد روپوش ہونا اور پھر ڈرامائی انداز میں منظرعام پر آنے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ مجھے آج بھی ياد ہے 28 نومبر 1992 کی دوپہر حاجی شفيق الرحمن صاحب کا فون آيا اور آگاہ کيا کہ ، مولانا احترام الحق تھانوی کی ،طارق روڈ پر واقع رہائش گاہ پر ايک انتہائی اہم پريس کانفرنس ہے۔
شام کو میں اور بی بی سی کے مرحوم ادریس بختیار طارق روڈ پہنچے تو وہان کچھ نہیں تھا ایک کار سوار نے بتایاکہ آپ لوگوں کے لیے ہدایت ہے کہ ٹیپو سلطان روڈ پر حاجی شفیق الرحمن کے گھر پہنچ جائیں، ہم دونوں اپنی موٹرسائیکلوں پر وہاں پہنچے تو خاصی گہما گہمی تھی، تجسس برقرار تھا، بی بی سی کے سیربین کا ٹائم قریب تھا چونکہ میں وائس آف جرمنی کے لیے کام کرتا تھا ان کی نشریات شام ساڑھے سات بجے ہوتی تھیں لہٰذا میں نے حاجی شفیق الرحمن سے کہا کہ جو بھی مسئلہ ہے آپ شیئر کرسکتے ہیں ورنہ آپ کی خبر بی بی سی اور وائس آف جرمنی پر نہیں چل سکے گی تو انہوں نے بتایا کہ عظیم احمد طارق جو روپوش تھے منظرعام پر آ رہے ہیں میں آپ دونوں کو اوپر ان کے کمرے میں لے جاتا ہوں۔
ہم کمرے میں پہنچے تو وہاں عظیم احمد طارق زاروقطار رو رہے تھے وہ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے میں خون دیکھ رہا ہوں، کاش الطاف حسین میں وزڈم ہوتی، ان کے سراہانے کھڑے مولانا احترم الحق تھانوی قرآنی آیات کی تلاوت کر کے انہیں دلاسہ دے رہے تھے، حاجی شفیق اور بیگم سلمی احمد، ڈاکٹر سليم حيدر ، طارق جاويد ان کے سراہانے کھڑے تھے۔
عظیم احمد طارق سے گفتگو ریکارڈ کی اور ہم نیچے اتر گئے اس دوران میڈیا کے نمائندے پریس کانفرنس کے لیے وہاں پہنچ رہے تھے۔ کسی کو نہيں معلوم تھا کہ ايم کيو ايم کے روپوش چيئرمين تھوڑی دير ميں منظر عام پر آنے والے ہيں۔
ميں اس بات پر غور کرتا ہوا حاجی شفيق کے گھر کی بالائی منزل سے اترتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ جس وقت عظیم احمد طارق بھرائی ہوئی آواز میں چیخ چیخ کر رو رہے تھے تو مجھے چند سال قبل مرحوم کا رعب اور دبدبہ ياد آگيا۔
ان کا ، نیپا چورنگی پر ایرو کلب میں ہونے والے مشاعرے میں ریڈ کارپیٹ استقبال میری نظروں کے سامنے گھوم گیا اور پھر کسی بات پر ناراضگی کے بعد ان کے محافظوں نے جو درگت جون ایلیا کی بنائی اس کے گواہ آج بھی اس شہر میں موجود ہیں، اللہ عظیم احمد طارق کی مٖغفرت کرے۔
ابھی يہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک حاجی شفیق الرحمن کے بنگلے کے دوسرے گیٹ سے سیاہ شیشوں والی گاڑیاں اندر آئیں میں اور ادریس بختیار مرحوم وہیں کھڑتے تھے، میرے منہ سے نکلا یہ تو ملٹری انٹیلی جنس سندھ کے سربراہ بریگیڈیئر امان ہیں، پھر کچھ باخبر ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی دوبارہ بحالی کی ذمے داری اس مرتبہ ملٹری انٹیلی جنس کو دی گئی ہے، آئی ایس آئی کو اس سارے کام سے دور رکھا گیا تھا۔
مرحلہ وار عظیم احمد طارق فعال ہونا شروع ہوئے، گو ایم کیو ایم حقیقی کی کوشش تھی کہ وہ سياست کا آغاز ان کے پرچم تلے کریں، مگر زرین مجید، طارق جاوید، حاجی شفیق الرحمن جو عظیم طارق کے “ہینڈلر “تھے، انہیں کسی بھی جانب جانے سے روکے رکھا۔
کچھ عرصہ بعد گلشن اقبال تھانے کے قریب بلاک 6 میں ایک بنگلہ میں منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس سے انہوں نے سیاست میں سرگرم ہونے کا اغاز کیا مگر وہ بہت محتاط تھے، ان کے قریبی لوگوں کا کہنا تھا کہ عظیم بھائی، الطاف حسین سے خوف زدہ ہیں، کیونکہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اجازت سے روپوشی ترک کر کے منظرعام پر آئے ہیں، یوں وہ ایم کیو ایم کے لیے غدار قرار پاچکے تھے۔
اچانک اطلاع آئی کہ عظیم احمد طارق دستگیر 14 نمبر میں اپنے آبائی گھر منتقل ہوگئے ہیں، چند مہینوں بعد 30 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب عظیم احمد طارق کو نامعلوم افراد نے گھر میں آکر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا، قتل کی اس ہولناک واردات کے وقت مرحوم کی اہليہ انيلا طارق کمرے ميں موجود تھيں ، مگر بعد ميں انکی اہليہ اپنے بچوں کے ساتھ امريکہ منتقل ہو گئيں ،
عظيم طارق کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیراعلی مظفر حسین شاہ سمیت کئی نمایاں سیاست دان ان کی رہائش گاہ پہنچے، اچانک اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل رینجرز بریگیڈیئر سلیم خان بھی وہاں پہنچ گئے، میری ان سے اچھی سلام دعا تھی مجھے دیکھ کر بولے “میں نے اسے دستگیر کے علاقے میں رہائش اختیار کرنے سے منع کیا تھا، “جس کا ڈر تھا وہی ہوا”، کاش ایسا نہ ہوتا” اس وقت کراچی میں مہران فورس تعینات تھی، ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر کی سطح کا آفیسر ہوا کرتا تھا۔ اس وقت کے کور کمانڈر بھی جنازے ميں آنا چہاتے تھے مگر ڈسٹرک سينٹرل کے ايس ڈی ايم رشيد عالم نے لوگوں ميں اشتعال کی وجہ سے وہاں نہ آنے کا مشورہ ديا۔
مقتدر حلقوں کی جانب سے عظیم احمد طارق کو منظرعام پر لانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اردو بولنے والوں کو سیاسی منظرنامے پر رکھنا چاہتے تھے۔ عظیم طارق کی روپوشی ختم کروا کر سیاست میں فعال کر کے ایم کیو ایم کے تعلیم یافتہ صاف ستھرے لوگوں کو عظیم طارق کے ذریعے سامنے لانے کا منصوبہ رکھتے تھے تاکہ جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کی جاسکے، مگر اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ترجیحات میں کراچی اس طرح سے نہیں تھا جیساکہ آج ہے اور جب اسٹیٹ نے اپنی رٹ قائم کرنا چاہی تو کرلی اور خود ایم کیو ایم کے رہنماوں سے الطاف حسین کو ڈس اون کروادیا۔
آج 2026 میں ایم کیو ایم ماضی کی طرز پر تو سیاست میں فعال نہیں ہو سکی ، اور نہ اب کبھی ہو پائے گی ، مگر اب ، ايم کيو ايم کے کئی رہنما وہی فریضہ انجام دے رہے ہیں جو کام انٹیلی ایجنسیاں عظیم طارق سے لینا چاہتی تھیں۔ ایم کیو ایم کے ماضی کے کارکن جو جرائم کا ریکارڈ نہیں رکھتے، انہیں کلیئر کرواکر ایم کیو ایم پاکستان کے پلیٹ فارم سے فعال کیا گيا مگر ناکامی کے بعد سب کو يکجا کر کے پارلمنٹ ميں تو پہنچا ديا ہے مگر مطلوبہ نتائج اب بھی حاصل نہ ہو سکے۔



  تازہ ترین   
ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز بھیج دیں: ایرانی میڈیا
امریکی صدر نے ایران سے جنگ بندی ختم، دوبارہ حملوں کا اشارہ دے دیا
آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل آ گیا
8 کروڑ لیٹر ڈیزل کے ساتھ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کر گیا
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
دہشتگردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے: وزیراعظم
اسرائیل کے لبنان میں حملے تیز، مزید 28 افراد شہید، متعدد زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر