تحریر: منظر نقوی
حکومت ایران نےجنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع شجرۂ طیبہ اسکول کو قومی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جو محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ یادداشت، شناخت اور اجتماعی شعور کا ایک گہرا اظہار ہے۔ صوبہ ہرمزگان کے محکمۂ ثقافتی ورثہ، سیاحت و دستکاری کے سربراہ عادل شہرزاد کے مطابق اس تاریخی اندراج کی تختی قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر نصب کی جائے گی، جو اس فیصلے کی قومی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
شجرۂ طیبہ اسکول اب محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک دردناک سانحے کی علامت بن چکا ہے۔ اس اسکول پر ہونے والے فضائی حملے میں تقریباً 170 طالبات کی شہادت نے اسے قومی یادداشت کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ جنگوں اور تنازعات کا سب سے زیادہ اثر معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں پر پڑتا ہے۔
ایسے مقامات کو قومی ورثہ قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ تاریخ صرف فتوحات اور کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ قربانیوں، دکھوں اور مزاحمت کی کہانیوں سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ اپنے زخموں کو محفوظ کرے یا وقت کے ساتھ انہیں فراموش کر دے، مگر جو معاشرے اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہیں وہی اپنے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔
شجرۂ طیبہ اسکول کو قومی سطح پر تسلیم کرنا دراصل ایک اجتماعی عہد ہے کہ اس سانحے کو بھلایا نہیں جائے گا۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آنے والی نسلیں اس واقعے سے آگاہ رہیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ اس طرح کے اقدامات تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں اور اسے محض کتابی معلومات کے بجائے ایک محسوس حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
اس فیصلے کی علامتی اہمیت بھی نہایت گہری ہے۔ قومی یومِ خلیج فارس کے ساتھ اس یادگار کی نقاب کشائی اس بات کی علامت ہے کہ قومی شناخت صرف جغرافیہ یا قدیم تاریخ سے نہیں بلکہ حالیہ تجربات اور قربانیوں سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ قوم کی طاقت اس کی یادداشت اور اس کے عزم میں پوشیدہ ہے۔
سماجی سطح پر ایسے اقدامات شفا یابی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کسی سانحے کو اجتماعی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے تو متاثرہ افراد اور کمیونٹیز کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا دکھ نظرانداز نہیں کیا گیا۔ ہرمزگان کے عوام کے لیے یہ اسکول ایک یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اجتماعی قوت اور استقامت کی علامت بھی ہے۔
تاہم اس طرح کے مقامات کی حفاظت کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ ان کی کہانی کو دیانتداری، حساسیت اور توازن کے ساتھ پیش کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یادگاریں تقسیم یا نفرت کے بجائے شعور اور مکالمے کو فروغ دیں۔ شجرۂ طیبہ اسکول کی داستان اگرچہ ایک مخصوص قومی تناظر رکھتی ہے، مگر اس میں انسانی دکھ، معصومیت اور جنگ کے اثرات جیسے عالمگیر موضوعات بھی شامل ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اس فیصلے کی اہمیت نمایاں ہے۔ تعلیمی ادارے امن اور ترقی کی علامت ہوتے ہیں، اور ان پر حملے پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ ایسے مقامات کو محفوظ کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شہریوں اور تعلیمی اداروں کا تحفظ عالمی اصولوں کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
مزید برآں، اس طرح کی یادگاریں تاریخی شعور کو فروغ دیتی ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں معلومات کی کثرت کے باوجود حقیقت اکثر دھندلا جاتی ہے، ایسے مقامات حقیقت کا زندہ ثبوت بن کر سامنے آتے ہیں۔ نئی نسل کے لیے یہ مواقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ ماضی کو قریب سے محسوس کریں اور اس سے سیکھیں۔
یہ اقدام ثقافتی اداروں کے بدلتے ہوئے کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اب ان کا دائرہ کار صرف قدیم آثار کی حفاظت تک محدود نہیں رہا بلکہ حالیہ تاریخ کو محفوظ کرنا بھی ان کی ذمہ داری بن چکا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ثقافتی ورثہ ایک زندہ تصور ہے جو وقت کے ساتھ تشکیل پاتا رہتا ہے۔
بالآخر، شجرۂ طیبہ اسکول کو قومی ورثہ قرار دینا فراموشی کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے۔ یہ اقدام ایک سانحے کو یادداشت، تعلیم اور شعور کے مرکز میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ قربانیوں کو یاد رکھا جائے گا اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے گا۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں تنازعات اور انسانی المیے مسلسل جاری ہیں، ایسے اقدامات عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر سانحے کے پیچھے انسانی کہانیاں ہوتی ہیں اور ان کہانیوں کو محفوظ رکھنا ایک باشعور اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔



