نالہ لئی ایک بہتی ندی سے زہریلے نالے تک

تحریر: ثاقب فاروق
farooqsaqib40@gmail.com

راولپنڈی کی کھوئی ہوئی پہچان کی داستان
صبح کے دھندلکے میں جب راولپنڈی کے پرانے علاقوں پر روشنی پھیلتی ہے تو نالہ لئی کے کنارے زندگی جاگ تو جاتی ہے، مگر اس زندگی میں تازگی نہیں، ایک عجیب سی گھٹن شامل ہوتی ہے۔ بدبو سے بوجھل ہوا، سیاہ پانی میں تیرتا کچرا، اور کناروں پر پھیلی بے ترتیبی—یہ منظر اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم نے اپنی ہی ایک قدرتی نعمت کو آہستہ آہستہ زہر میں بدل دیا ہے۔ یہی نالہ کبھی شفاف پانی کی ندی تھا، جس کے کنارے شہر کی تہذیب سانس لیتی تھی۔ آج یہ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا ترقی کی دوڑ میں ہم نے اپنی بنیادیں خود کھو دی ہیں؟
نالہ لئی کی ابتدا مارگلہ ہلز کی بلند پہاڑیوں سے ہوتی ہے، جہاں بارشوں اور قدرتی چشموں کا پانی بہہ کر ایک ندی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق جب راولپنڈی ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، تو یہی نالہ اس کی معاشی، سماجی اور روحانی زندگی کا مرکز تھا۔ 15ویں صدی میں گکھڑ سرداروں کے دور میں اس کے کناروں پر باقاعدہ آبادیاں وجود میں آئیں۔ پانی اس قدر صاف تھا کہ اس میں تیرتی مچھلیاں اور نیچے بچھے کنکر صاف دکھائی دیتے تھے۔ ہندو برادری اسے مذہبی رسومات کے لیے مقدس سمجھتی تھی، جبکہ مسلمان صوفیاء یہاں روحانی سکون حاصل کرتے۔ یہ نالہ صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی منظرنامہ تھا۔


برطانوی دور میں جب راولپنڈی کو فوجی کینٹونمنٹ کی حیثیت ملی تو نالہ لئی نے شہر کی جغرافیائی اور انتظامی تقسیم میں بھی کردار ادا کیا۔ 19ویں صدی تک اس کا پانی قابلِ استعمال تھا، اور مقامی روایات میں اسے صحت بخش سمجھا جاتا تھا۔ اس دور کی تصاویر اور بیانات بتاتے ہیں کہ دھوبی گھاٹ آباد تھے، بچے نہاتے تھے، اور لوگ روزمرہ ضروریات کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتے تھے۔
تاہم اصل المیہ اس وقت شروع ہوا جب 20ویں صدی کے وسط کے بعد شہری آبادی بے قابو انداز میں پھیلنے لگی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منصوبہ بند ہاؤسنگ، اور صنعتی سرگرمیوں نے نالہ لئی کو سیوریج لائن میں تبدیل کر دیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ شہر کی درجنوں بڑی اور سینکڑوں چھوٹی نالیاں اپنا فضلہ اس میں گراتی ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق نالے کے پانی میں بائیولوجیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پانی میں آکسیجن کی مقدار تقریباً ختم ہو چکی ہے اور یہ آبی حیات کے لیے ناقابلِ رہائش بن چکا ہے۔


نالہ لئی کے اردگرد غیر قانونی تجاوزات ایک اور بڑا مسئلہ ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے کنارے سکڑتے گئے، جس سے اس کی قدرتی گزرگاہ متاثر ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مون سون کے دوران معمولی بارش بھی سیلابی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ 1988 اور 2001 کے تباہ کن سیلابوں نے نہ صرف قیمتی جانیں لیں بلکہ اربوں روپے کا نقصان بھی کیا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے سانحات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر مختلف منصوبے پیش کیے گئے، جن میں فلڈ کنٹرول سسٹم، نالہ لئی ایکسپریس وے، اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس شامل ہیں۔ مگر ان منصوبوں کی تکمیل ہمیشہ تاخیر کا شکار رہی۔ ادارہ جاتی کمزوری، فنڈنگ کے مسائل، اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض انفراسٹرکچر بنانا کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط ماحولیاتی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں صنعتی فضلے کی نگرانی، شہری کوڑا کرکٹ کا مؤثر انتظام، اور عوامی آگاہی شامل ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی بڑے شہروں نے اسی طرح کے مسائل کا کامیابی سے حل نکالا ہے۔ لندن کا دریائے ٹیمز، جو کبھی شدید آلودہ تھا، آج صاف پانی کی مثال بن چکا ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا کے شہر سیول میں چیونگ گی چیون اسٹریم کو دوبارہ زندہ کر کے ایک ماحولیاتی اور سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ارادہ اور منصوبہ بندی درست ہو تو ناممکن کچھ بھی نہیں۔ نالہ لئی کی موجودہ حالت محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اگر فطرت کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو تو وہ تباہی میں بدل جاتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو وقتی نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھیں۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو یہ نالہ دوبارہ زندگی کی علامت بن سکتا ہے۔
ورنہ تاریخ ہمیں اسی نالے کے کنارے کھڑا کر کے یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ جب وقت تھا، تو ہم نے کیا کیا؟



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور ترقی پذیر ممالک کیلئے سنگین خطرہ ہے: پاکستان
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں، عالمی فوجی اخراجات نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
برطانوی بادشاہ چارلس سوم اہلیہ سمیت امریکا پہنچ گئے، صدر ٹرمپ سے ملاقات
ایران کی قیادت کمزور ہو چکی، مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے: مارکو روبیو
پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی بے نقاب، بھارتی صحافی نے بھانڈا پھوڑ دیا
یو این سیکرٹری جنرل کا عالمی گزرگاہ کو فوری کھولنے کا مطالبہ
امریکا نے مزید مذاکرات کی درخواست کی جس پر غور کررہے ہیں: عباس عراقچی
مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی گئی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر