واشنگٹن(نیشنل ٹائمز) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کے باعث عالمی فوجی اخراجات نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
سال 2025ء کے دوران مجموعی فوجی اخراجات 2.9 کھرب ڈالر ریکارڈ کئے گئے، یہ مسلسل گیارہواں سال ہے جب دفاعی اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے تین ممالک امریکا، چین اور روس نے مجموعی طور پر 1.48 کھرب ڈالر خرچ کئے جو عالمی اخراجات کا 51 فیصد بنتا ہے۔
موجودہ عالمی بحرانوں اور کئی ممالک کی طویل المدتی دفاعی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ یہ اضافہ 2026ء اور اس کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا بحران، یعنی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کشیدگی مستقبل میں دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ 2025ء میں امریکی فوجی اخراجات کم ہو کر 954 ارب ڈالر رہ گئے لیکن رپورٹ کے مطابق یہ کمی عارضی ثابت ہونے کا امکان رکھتی ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل کے دفاعی اخراجات 48.3 ارب ڈالر رہے کیونکہ اس نے غزہ میں اپنی جنگی سرگرمیاں کم کر دی تھیں، سال 2025ء میں ایران کے دفاعی اخراجات بھی 5.6 فیصد کم ہوئے اور 7.4 ارب ڈالر ریکارڈ کئے گئے۔
تاہم رواں برس ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ان اخراجات میں مستقبل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔



