آئے تو قدم لینا، جائے تو دعا دینا

تحریر: عابد حسین قریشی

ویسے تو یہ کسی انڈین گانے کے بول ہیں، کہ۔
“دل والوں کی دنیا میں ہے رسم کہ جب کوئی، آئے تو قدم لینا، جائے تو دعا دینا۔”

آنے پر کون قدم لیتا یا استقبال کرتا ہے، یا خوش ہوتا ہے، اور جانے پر کون دعا دیتا ہے۔ ذرا دلچسپ بھی ہے، مسحور کن بھی بلکہ حیران کن بھی۔ یہ تو دلوں کی بات ہے، کہ جب کوئی آپکا دل پسند شخص ملے، تو آپ خوش دلی اور کھلی باہوں سے اسکا استقبال کریں، اسے خوش آمدید کہیں، مگر بہت سے لوگ تو آنکھ بچا کر نکل جاتے ہیں۔ یہ تو بڑی دلکش و دلپزیر روایت تھی، کہ اپنوں کو آنے پر گلے لگانا، اور جانے والوں کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کرنا۔ مگر ہم سوشل میڈیا کی چکا چوند میں سب کچھ روند بیٹھے۔

ہم ایک دوسرے کو جانتے بھی ہوتے ہیں، مگر تعلقات میں سردمہری، رویوں میں تبدیلی، تخت نشینی سے فرش نشینی کا سفر، اور کئی اس طرح کے جاں گسل مرحلے گرمجوشی کی آگ کو راکھ میں بدل دیتے ہیں۔ اور بہت سی قربتیں فاصلوں میں بدل جاتی ہیں۔ اور پھر نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، والی کیفیت ہوتی ہے۔

اب تو شاید ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے اتنے دور ہو چکے ہیں، کہ نہ کسی کے آنے کی خبر ہوتی ہے، نہ جانے کی۔ اب تو شاید دعا بھی صرف والدین ہی بچوں کو دیتے ہیں، اور وہ بھی صرف اپنے بچوں کو۔ ہمارے اندر تو اب دوسروں کو دعا دینے کی نہ سکت رہی، نہ حوصلہ۔ نہ ظرف، نہ قرینہ۔

زمانے کا چلن، معاملات میں کمرشلزم، خود غرضی اور منافقت، رویوں کی سرد مہری کا سبب تو بن گیا، مگر ہماری بہت سی خوبصورت معاشرتی روایات کو کھا گیا۔ ہم سوشل میڈیا کی دنیا میں ایسے پھنسے کہ کچھ ہوش ہی نہ رہا۔نہ اپنی فکر، نہ غم دوراں کا قلق، نہ غم جاناں کی کسک، اب نہ آنے والوں کے قدم لینے کا ہوش رہا، نہ جانے والوں کو دعا دینے کا چلن۔

دل کی باتیں دلوں میں ہی رہنے لگیں۔ ہمارے قہقہے اور مسکراہٹیں محض مجلسی تبسم بن کر رہ گئیں۔ عجب افراتفری میں ہم زندہ ہیں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے لمحہ بہ لمحہ معاشرہ کی اقدار اور عمدہ روایات کو زخموں سے چور لرزہ براندام ہوتے بڑی بےبسی سے دیکھ رہے ہیں۔ مگر مسکرا رہے ہیں۔ شاید بےحسی اور لاتعلقی میں لوگوں کو زندہ رہنے کا ہنر آگیا ہے۔حالانکہ لاتعلقی لوگوں میں رہتے ہوئے سب سے بڑا گناہ بھی ہے اور جرم بھی۔ آپکا ہمسایہ بھوکا سویا ہو، آپکے کے سامنے کسی کا بچہ دوا نہ ملنے سے مر رہا ہو، اور آپ اس سے لاتعلق نظر آئیں۔ یہ جرم نہیں تو اور کیا ہے۔

آنے والے تیری راہوں میں بچھاوں آنکھیں۔ اور جانے والے تیرے قدموں سے لپٹ کر رو لوں۔ اب نہ آنکھیں بچھانے والے رہے، نہ پاؤں سے لپٹ کر رونے والے۔ نظر نظر سے مل نہیں پا رہی، اور دل ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

لوگ بھولتے نہیں، ہم بھلا دیتے ہیں، لوگ چھوٹتے نہیں، ہم چھوڑ دیتے ہیں، مگر یہ بھی تو اصول فطرت ہے، کہ جو آپکو چھوڑنا چاہے، اسے مت روکیں، وہ کبھی تمہارا تھا ہی نہیں، اور جو واپس آنا چاہے، اسکے لئے دل کے در وا کئے رکھیں۔

محبت، خلوص، دوستی، تعلق، قرابت، رفاقت، چاہت، یہ سب الفاظ ایک معنی رکھتے تھے، زمانے کی روا روی اور اپنی افتاد طبع سے ان الفاظ کے معنی کو زندہ و تابندہ رکھیں۔ زندگی بہت مختصر ہے، بھلا تعلقات کتنا لمبا چل سکتے ہیں۔ مگر امید کے چراغ تو جلتے رہنے چاہئیں۔

“تیری امید پہ قائم ہے ابھی تک یہ دل۔
تو نہیں آیا مگر انتظار آج بھی ہے۔”



  تازہ ترین   
مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی گئی
پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا، حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا: عراقچی
ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز امریکا کو موصول
پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں، ایران ہمیں فون کر سکتا ہے: امریکی صدر
جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی بروقت کارروائی میں متعدد پوسٹیں تباہ
ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز امریکا کو موصول
پاکستان کا دورہ نہایت مفید، آج پیوٹن سے ملاقات، پیشرفت کا جائزہ لیں گے: عراقچی
ایران کا وزیراعظم، فیلڈ مارشل کو مثبت سفارتی کردار پر خراج تحسین





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر