قومی سلامتی اور جعلی صحافت: بائیو میٹرک واحد حل۔

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان میں صحافت کو ہمیشہ ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد حقائق کی درست عکاسی، عوامی مسائل کی نشاندہی اور حکومتی و ریاستی معاملات میں بہتری کے لیے تعمیری تنقید فراہم کرنا ہے۔ مگر بدقسمتی سے وقت کے ساتھ اس مقدس پیشے میں ایسے عناصر بھی گھس آئے ہیں جنہوں نے صحافت کو ایک منافع بخش ہتھیار اور دباؤ کے آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ملک بھر کے متعدد پریس کلب آج ایسے افراد کے زیرِ اثر آ چکے ہیں جو نہ تو پیشہ ور صحافی ہیں اور نہ ہی صحافت کے بنیادی اصولوں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں، بلکہ وہ محض ذاتی مفادات، بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں۔
یہ جعلی صحافی اور نام نہاد صحافتی تنظیمیں نہ صرف اصل صحافیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں بلکہ ریاستی اداروں اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ماضی قریب میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جہاں صحافت کی آڑ میں ویزہ فراڈ، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس چلائے گئے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض عناصر نے غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے کام کرتے ہوئے صحافت کو بطور ڈھال استعمال کیا۔ جب سکیورٹی ادارے ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت تمام شواہد فوری طور پر منظرِ عام پر لانا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی خلا کو استعمال کرتے ہوئے یہی جعلی نیٹ ورکس ایک منظم مہم چلاتے ہیں، پریس کلبوں کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں، کنونشنز اور احتجاج منظم کرتے ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ گھڑتے ہیں۔
اس منظم حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور دیگر عالمی فورمز پر انسانی حقوق کے نام پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ اندرونِ ملک کچھ مفاد پرست این جی اوز اور عناصر ان جعلی صحافیوں کے ساتھ مل کر ریاستی اداروں، خصوصاً سکیورٹی اداروں کے خلاف فضا ہموار کرتے ہیں۔ احتجاج، پریس گیلری بائیکاٹ اور سیاسی دباؤ کے حربے استعمال کر کے ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے، جس میں بعض اوقات سیاسی اپوزیشن بھی ان عناصر کے بیانیے کو تقویت دیتی نظر آتی ہے۔

ان حالات میں اسلام آباد نیشنل پریس کلب کی موجودہ قیادت کا نادرا کے تعاون سے ممبران کی بائیو میٹرک تصدیق کا فیصلہ ایک جراتمندانہ اور بروقت اقدام ہے۔ یہ نہ صرف صحافت کے شعبے میں شفافیت لانے کی جانب ایک عملی قدم ہے بلکہ اس سے جعلی اور غیر مستند عناصر کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سابق پریس کلب کے صدد حاجی نواز رضا اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کو چھیڑا ہے جس پر ماضی میں بات تو بہت ہوئی مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔

اب وقت آ چکا ہے کہ اس اقدام کو محض ایک پریس کلب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ اس حوالے سے چند ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں:

اول، پارلیمنٹ فوری طور پر جامع قانون سازی کرے جس کے تحت ملک بھر کے تمام پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں کے ممبران کی بائیو میٹرک تصدیق نادرا کے زریعے لازمی قرار دی جائے۔
دوم، وزارتِ اطلاعات کے تحت ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے جس میں تمام رجسٹرڈ صحافیوں کا مکمل ریکارڈ، پیشہ ورانہ تاریخ اور ادارہ جاتی وابستگی محفوظ ہو۔
سوم، پریس کلبوں کی رجسٹریشن اور فنڈنگ کو سخت نگرانی میں لایا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی ہو سکے۔
چہارم، صحافت کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں، جاسوسی یا بلیک میلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور فوری قانونی کارروائی کی جائے، اور ایسے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ وہ نشانِ عبرت بن سکیں۔
پنجم، حقیقی اور پیشہ ور صحافیوں کے تحفظ اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے الگ سے پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ صحافت کا اصل چہرہ مضبوط ہو سکے۔

پاکستان کے اندر بعض صحافتی تنظیمیں اور ان کے چند سرکردہ رہنما، جو بظاہر صحافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، ایسے کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں جن پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسی آڑ میں ریاستی اداروں اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ اس حوالے سے مختلف حلقوں میں عادل راجہ، حیدر مہدی، شاہین صہبائی، معید پیرزادہ، صابر شاکر اور عمران ریاض خان جیسے نام بھی زیرِ بحث آتے رہے ہیں، جن کے بارے میں ناقدین کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ماضی میں ملک کے اندر بیٹھ کر ایک خاص نوعیت کا بیانیہ تشکیل دیا، جس سے معاشرتی تقسیم اور بے چینی کو ہوا ملی۔ بعد ازاں یہ تمام افراد بیرونِ ملک منتقل ہو گئے اور وہاں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ذرائع کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوٸے ہیں ناقدین کے مطابق، ان عناصر پر یہ الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں کہ انہوں نے بیرونی فنڈنگ یا سیاسی وابستگیوں کے تحت پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کے بارے میں منفی تاثر اجاگر کیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو نقصان پہنچا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ ان تمام سرگرمیوں کے باوجود انہیں اکثر “صحافی” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، جس سے اصل اور غیر اصل صحافت کے درمیان فرق مزید دھندلا ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خدشات بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ بعض افراد نے صحافت کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ یا متنازع سرگرمیوں میں حصہ لیا، جس نے مجموعی طور پر صحافت کے وقار کو متاثر کیا۔یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صحافت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں کے اندر سخت جانچ پڑتال، بائیو میٹرک تصدیق اور مؤثر نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے تو نہ صرف ایسے متنازع کرداروں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ مستقبل میں کسی بھی فرد کے لیے صحافت کی آڑ میں ریاست مخالف یا غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس طرح ایک طرف حقیقی اور پیشہ ور صحافیوں کا وقار بحال ہوگا، جبکہ دوسری جانب پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر درپیش بیانیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آزادیٔ صحافت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے قانون سے بالاتر کر دیا جائے۔ ایک ذمہ دار اور باوقار صحافت ہمیشہ ریاست کے استحکام کا باعث بنتی ہے، نہ کہ اس کے لیے خطرہ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ریاست، حکومت اور متعلقہ ادارے مل کر اس شعبے کو صاف، شفاف اور جوابدہ بنائیں۔ بائیو میٹرک تصدیق کا نظام اس سمت میں پہلا مگر انتہائی اہم قدم ہے، جسے پوری سنجیدگی اور سختی کے ساتھ نافذ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔



  تازہ ترین   
آصف علی زرداری اور شہباز شریف کا وائٹ ہاؤس فائرنگ واقعے پر اظہارِ تشویش، امریکی صدر کے محفوظ رہنے پر اطمینان
آصف علی زرداری کا چرنوبل حادثے کے 40 سال مکمل ہونے پر پیغام
وائٹ ہاؤس میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ، امریکی صدر محفوظ رہے، حملہ آور پکڑا گیا
امریکی بحریہ کی کارروائی، بحیرہ عرب میں ایران کا ایم وی سیون جہاز روک لیا
جارحیت کی تو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، ایرانی فوج کا امریکا کو انتباہ
وزیراعظم شاندار، فیلڈ مارشل فنٹاسٹک، ایران بات کرنا چاہتا ہے تو فون کر سکتا ہے: ٹرمپ
عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے، ایرانی میڈیا
چین نے پاکستانی سیٹلائٹ پی آر ایس سی- ای او تھری لانچ کر دیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر