اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے چرنوبل کے حادثے کی یاد کے عالمی دن (26 اپریل 2026) کے موقع پر پیغام میں کہا کہ آج ہم چرنوبل کے ایٹمی حادثے کو چالیس سال مکمل ہونے پر اس دن کی یاد منا رہے ہیں جس نے ایٹمی خطرات اور ذمہ داری کے بارے میں عالمی شعور کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1986 میں اس پلانٹ میں ہونے والے دھماکے سے تابکاری کا پھیلاو اپنے متصل علاقے سے بہت دور تک تھا، جس نے موجودہ بیلاروس، یوکرین اور روس کے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ اس حادثے کے اثرات اس واقعے کے طویل عرصے بعد تک برقرار رہے۔
یہ دن ہمیں تابکاری کے دور رس اثرات کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تابکاری کے اثرات کسی تنصیب کی حدود یا کسی ایک نسل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ وسیع علاقوں میں پھیل جاتے ہیں اور طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں، جس سے عوامی صحت، ماحول اور معاشی زندگی اس طور سے متاثر ہوتی ہے جو اکثر ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔
اس حادثے کے بعد کی صورت حال نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ اقوامِ متحدہ کے نظام اور دیگر شریک اداروں نے تحقیق، طبی مداخلت اور بحالی کے پروگراموں کے ذریعے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کی، اور بعد ازاں بحالی اور ترقی پر مبنی طویل مدتی حکمتِ عملی اپنائی۔ یہ مسلسل کوششیں اس چیلنج کی شدت اور مستقل احتیاط کی ضرورت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس حادثے سے حاصل ہونے والے اسباق بالکل واضح ہیں۔ جوہری حفاظت کو محض ایک تکنیکی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے مستقل نظم و ضبط، سخت نگرانی اور اس سے وابستہ خطرات کے بارے میں گہری آگاہی درکار ہے۔ جوہری تنصیبات سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت یا معاندانہ کارروائی کے ایسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو فوری ہدف سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی کارروائیوں سے ان آبادیوں کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جن کا اس بنیادی واقعے سے کوئی براہِ راست تعلق بھی نہ ہو۔
عام شہریوں کے لیے یہ خطرات عملی طور پر بڑی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ زرعی اراضی نا قابل کاشت ہو سکتی ہے۔ خوراک اور پانی کی فراہمی برسوں تک متاثر رہ سکتی ہے۔ خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس کے تعلیم اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نظامِ صحت کو ایسی بیماریوں اور حالات سے نمٹنا پڑتا ہے جو بتدریج ظاہر ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ برقرار رہتے ہیں۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جو جوہری حادثات کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
بطور صدر، میں ایٹمی تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ ہم ان تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیتی ہیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بناتی ہیں اور اس طرح کے حادثات کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔ چرنوبل کا تجربہ ایک یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہے اور ایسے حادثے کی قیمت آنے والی نسلوں کو چکانی پڑتی ہے۔



