تہران (نیشنل ٹائمز) ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ تحریری پیغام میں کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ایک قوم کے طور پر اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای یہ پیغام ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے 40 روز پورے ہونے کے موقع پڑھ کر سنایا گیا، جو کہ 28 فروری کو ہونے والے حملوں کا نشانہ بنے تھے۔مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ہم نے جنگ چاہی تھی نہ چاہتے ہیں لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور اس سلسلے ہم اس پوری مزاحمت کو ایک مجموعی محاذ سمجھتے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کے سٹریٹجک انتطام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرے گا۔رہبرِ اعلیٰ نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وہ یہ نہ سوچیں کہ سڑکوں پر نکلنا اب ضروری نہیں رہا،عوامی مقامات پر بلند ہونے والی آپ کی آوازیں یقیناً مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عوام کو تلقین کی کہ جھوٹے وعدوں سے بچیں، ایران کے نقصانات کا ازالہ طلب کیا جائے گا، ریاست اپنے حقوق پر سمجھوتہ کیے بغیر امن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
امریکا کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، حقوق کا دفاع کیا جائے گا: ایرانی سپریم لیڈر



