بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے کے حوالے سے چین اور پاکستان کا منصوبہ سب کے لئے ایک کھلا اقدام ہے اور تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو اس پر مثبت ردعمل دینے اور اس میں شرکت کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
چین اور پاکستان نے منگل کے روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے 5 نکاتی اقدام پیش کیا ہے۔
ان 5 نکات میں تنازع کا فوری خاتمہ، جلد از جلد امن مذاکرات کا آغاز، غیر فوجی اہداف اور بحری گزرگاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کا تحفظ شامل ہے۔
ماؤ ننگ نے معمول کی نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہونے پر اس کے اثرات مسلسل پھیل رہے ہیں جس سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اثرات نے توانائی کی عالمی ترسیل کے استحکام، صنعتی اور سپلائی چینز کے بلاتعطل آپریشنز اور عالمی معیشت کی ترقی میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا کیا ہے اور یہ علاقائی ممالک اور پوری دنیا کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے اہم ممالک ہونے کے ناطے چین اور پاکستان نے ایک معقول اور منصفانہ موقف اختیار کیا ہے تاکہ عالمی برادری میں زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے اور موجودہ کشیدہ صورتحال کو کم کرنے اور خلیج و مشرق وسطیٰ کے خطے میں جلد از جلد امن و سکون کی بحالی کے لئے بھرپور کوششیں کی جا سکیں۔
ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین، پاکستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گا تاکہ جنگ بندی کے فروغ اور تنازع کے خاتمے میں تعمیری کردار ادا کیا جا سکے۔
چین کی مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے سے متعلق منصوبے میں بین الاقوامی شرکت کی دعوت



