باکو (شِنہوا) ایک آذری ماہر کا کہنا ہے کہ آذربائیجان میں اس وقت چینی زبان سیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی وجہ چین کے ساتھ اس کے متحرک اقتصادی تعلقات اور عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔
آذربائیجان کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز میں شعبہ چینی علوم کے سربراہ رفیق عباسوف نے بتایا کہ آذربائیجان کےزیادہ سے زیادہ طلبہ چین میں تعلیم حاصل کرنے یا چینی زبان کی کلاسز لینے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
عباسوف کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بھی ہیں جو آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز میں قائم ہے اور اب ملک بھر کی کئی یونیورسٹیوں اور سکولوں میں چینی زبان کے کورسز پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ بچے 7 یا 8 سال کی عمر سے ہی چینی زبان سیکھنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ چین کے موضوع پر منعقدہ سیمینارز میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں جو مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی دلچسپی اور جوش و خروش کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کے خیال میں چین آذربائیجان کے لئے اقتصادی تعلقات کی ترقی میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اقتصادی روابط تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں۔
ماہر نے کہا کہ آذربائیجان ہائی ٹیک شعبے میں چین کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ چین ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ماحول دوست توانائی کے شعبے میں بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں کیونکہ چین شمسی پینلز کی پیداوار اور ہوا سے توانائی حاصل کرنے میں عالمی رہنما ہے۔
عباسوف نے کہا کہ عظیم شاہراہ ریشم نے آذربائیجان اور چین کو تاریخی اعتبار سے جوڑے رکھا ہے۔ چین کی جانب سے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، جس کا مقصد لوگوں اور ثقافتوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے، کے نفاذ کے بعد آذربائیجان عظیم شاہراہ ریشم کی بحالی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور چین و یورپ کے درمیان اپنی سٹریٹجک حیثیت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
طویل عرصے تک آذربائیجان کی صدارتی انتظامیہ میں بھی خدمات انجام دینے والے عباسوف نے کہا کہ ملک کی قیادت چینی پالیسیوں میں دلچسپی رکھتی ہے اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی میں چین کے تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے۔
عباسوف نے کہا کہ بہت سی آذری کمپنیاں چینی ٹیکنالوجیز استعمال کر رہی ہیں جبکہ نوجوان پہلے ہی یہ سمجھ چکے ہیں کہ بہتر ملازمت کے مواقع کے لئے چینی زبان سیکھنا ضروری ہے۔
مستقبل کے حوالے سے عباسوف نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سائنسی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
آذربائیجان میں چینی زبان سیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، آذری ماہر



