اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان حکومت کی ناکامی کا ذمہ دار نہیں ہے، پاکستان افغان جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، دنیا کو افغان حکومت سے سوال کرنا چاہیے کہ اربوں ڈالر کہاں گئے؟ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا کہ افغان تنازع کا صرف سیاسی حل ہے، وزیراعظم بار بار کہتے رہے کہ امریکا افغانستان میں اپنی موجودگی کے دوران سیاسی حل کی کوشش کرے اور پھر ذمہ داری سے انخلا کرے لیکن جو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کابل حکومت کے سکیورٹی انفراسٹرکچر کے غیر فعال ہونے کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے، بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، کابل حکومت کو ٹوئٹر پر پاکستان مخالف مہم چلانے کی بجائے لڑنے پر توجہ دینی چاہیے۔مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ افغان ہمارے بہن بھائی ہیں مگر پاکستان مزید افغان مہاجرین نہیں لے سکتا، دنیا افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے اور مسئلے کا حل نکالے۔معید یوسف کا کہنا تھا افغان مسئلے کے سیاسی حل میں ایک بار پھر روح پھونکی جائے، اس میں امریکا کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان کے بس میں جو کچھ ہوا وہ کرے گا۔
’پاکستان نے بارہا کہا امریکا افغان مسئلے کے سیاسی حل کی کوشش کرے پھر انخلا کرے‘



