تہران(نیشنل ٹائمز) ایرانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا، ایران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لیا اور انہیں غیرمناسب پایا، ایران صدر ٹرمپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت متعین کریں، ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران کے وزیر خارجہ
ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات ضرور بھیج رہا ہے، تاہم اسے مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔عباس عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور تنازع کے مستقل خاتمے کا خواہش مند ہے جبکہ تہران جنگ سے ہونے والی تباہی کے ازالے کیلئے معاوضے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے فوجی اڈے رکھنے کے باوجود خطے کے ممالک کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، امریکا کی موجودگی کے باوجود خطے میں سکیورٹی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی۔
ایران نے امریکی تجاویز مسترد کرتے ہوئے اپنی 5 شرائط پیش کر دیں
ایران نے امریکی شرائط ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی شرائط رکھیں کہ جنگ کے خاتمے کیلئے حملوں اور ایرانی عہدیداروں کا قتل روکا جائے۔ایران نے شرط رکھی کہ جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کیے جائیں اور ایران میں جنگ کے نقصانات کا تعین اورادائیگی کی ضمانت دی جائے۔ایرانی شرائط کے مطابق ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جنگ روکی جائے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔
ایران کا ابتدائی ردعمل امریکا تک پہنچانے کیلئے پاکستان کو بھیج دیا گیا
ایرانی حکام نے مطالبہ کیا کہ ایران اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جنگ روکی جائے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے، ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ایران کا ابتدائی ردعمل امریکا تک پہنچانے کیلئے پاکستان کو بھیج دیا گیا۔
جنگ بندی کا فیصلہ ایران کی شرائط پر ہوگا، اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ایران



