لندن (شِنہوا) 8 واں چین-برطانیہ اقتصادی و تجارتی فورم گزشتہ روز لندن میں منعقد ہوا، جس میں 350 کے قریب حکومتی، کاروباری، مالیاتی اور تعلیمی نمائندگان نے شرکت کی تاکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے پیش نظر دوطرفہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے جاسکیں۔
مرچنٹ ٹیلرز ہال میں “مشترکہ رفتار میں اتحاد، مشترکہ مستقبل کے لئے تعاون کو گہرا بنانا” کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والا یہ فورم برطانیہ میں چائنہ چیمبر آف کامرس (سی سی سی یو کے) کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جسے برطانیہ میں چینی سفارت خانے اور برطانیہ کے محکمہ برائے کاروبار و تجارت کی حمایت حاصل تھی، جبکہ متعدد ممتاز برطانوی ادارے بھی اس میں شریک تھے۔
یہ پروگرام چین اور برطانیہ کے نئے اعلیٰ سطح کے رابطوں کے پس منظر میں منعقد ہوا ہے، جس میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا اس سال کے شروع میں چین کا دورہ بھی شامل ہے، اس کے ساتھ چین کے سالانہ دو اجلاسو ں کی نئی پالیسی ترجیحات سامنے آئی ہیں اور 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز بھی ہوا ہے۔
سی سی سی یو کے کے چیئرمین فانگ وین جیان نے فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان مکالمے کا کلیدی پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس رفتار کو عملی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
چین کے سفیر ژینگ زی گوانگ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری نے دوطرفہ تعلقات کوآگے بڑھانے میں محرک قوت کا کام کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کو عملی نتائج میں ڈھالنے کے لئے زیادہ کوششوں کا مطالبہ کیا۔
ویں چین-برطانیہ اقتصادی و تجارتی فورم کا لندن میں انعقاد



