اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں ہر گلی کوچے میں ایک ہی سوال سب کے ذہنوں میں ہے کہ سینیٹ کا نیا چیئرمین کون ہو گا۔ اس وقت نئے چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر جتنا بھی ہنگامہ برپا ہو، جماعتوں کو سینیٹ انتخابات میں سیاسی بیانیے، اخلاقیات اور اپنے ہی بنائے گئے زریں اصولوں سے بھی بعض دفعہ نظریں چرانی پڑ جاتی ہیں۔سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں ناممکن بھی ممکن ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کی بڑی مثال تو خود اس وقت چیئرمین سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی ہی ہیں، جو اس قدر پیچیدہ انتخابی مقابلے میں اپ سیٹ دینے کے حوالے سے اب ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔اپوزیشن اراکین کی کم تعداد کے باوجود یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم عمران خان کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے کر سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے اور اب وہ چیئرمین سینیٹ کی دوڑ میں بھی بہتر پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔اس وقت اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کے لیے بظاہر 51 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے مگر یہ ووٹنگ خفیہ رائے شماری سے ہوگی اور اس میں نتائج کا گراف غیر متوقع طور پر بدل بھی جاتا ہے۔اس وقت 100 کے ایوان میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے لیے 51 ووٹ درکار ہیں۔ بظاہر نمبرز گیم میں اس وقت حکومتی اتحاد اپوزیشن سے پیچھے ہے مگر اپوزیشن اتحاد کے لیے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔اپوزیشن کے پاس سینیٹ میں 52 ووٹ ہیں جن میں سے 20 سینیٹرز کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ 18 پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سینیٹرز کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو جبکہ جماعت اسلامی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور ایک آزاد امیدوار کے پاس ایک، ایک ووٹ موجود ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی آزاد حیثیت سے فاٹا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم ہونے اور اس علاقے کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قریب ہو گئے۔اس بار فاٹا سے کوئی منتخب نہیں ہوا مگر اس علاقے کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے پہلے شمیم آفریدی سمیت چار سینیٹرز قبائلی علاقوں سے سینیٹ میں پہنچے تھے، جو مزید تین سال بھی ایوان بالا کا حصہ رہیں گےبلوچستان سے بی این پی میں شامل ہونے والی نسیمہ احسان کے سینیٹ تک کے سفر میں انھیں بلوچستان عوامی پارٹی کی بھی حمایت حاصل رہی۔ان کے خاوند احسان شاہ اس وقت بی این پی عوامی کے سینیئر عہدیدار ہیں ان کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینا ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ بی این پی عوامی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اگر ان کا ووٹ نہ گنا جائے تو اپوزیشن کے پاس کل نشستیں 51 رہ جاتی ہیں۔ابھی جماعت اسلامی نے اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں حکومت کا ساتھ دے گی یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے گی۔اگر جماعت اسلامی ووٹنگ کے عمل سے اجتناب کرے تو اپوزیشن کی تعداد 50 بنتی ہے اور یوں یوسف رضا گیلانی اس وقت تک چیئرمین سینیٹ نہیں بن سکتے جب تک جماعت اسلامی یا حکومتی اتحاد میں سے کوئی انھیں ووٹ نہیں ڈالتا۔
گیلانی یا سنجرانی ؟ سینیٹ چیئرمین کا انتخاب کل ہوگا



