پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا افسوسناک ہے،وزیر خارجہ

اسلام آ باد (نیشنل ٹائمز ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت ہماری موثر حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وبا کے پھیلاؤ کی شرح میں بہت کمی آئی ہے،کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے تمام کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا افسوسناک ہے، پاکستان، خطے میں تعمیر و ترقی اور روابط کے فروغ کیلئے کیلئے قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے، افغانستان میں اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر،وفاقی وزیر خزانہ، شوکت ترین، مشیر تجارت رزاق داؤد، وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق،سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اسپیشل سیکرٹری رضا بشر تارڑ، ماہرین امور خارجہ،سابق خارجہ سیکرٹریز و سفراء اور دیگر اراکین کونسل نے شرکت کی ۔دوران اجلاس افغانستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت اہم سفارتی امور پر مشاورت کی گئی اور پاکستان میں کرونا وبا کی موجودہ صورتحال، وبا کے معاشی مضمرات اور ان سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ ء خیال ہوا ۔ اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت ہماری موثر حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وبا کے پھیلاؤ کی شرح میں بہت کمی آئی ہے، کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے تمام کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں،وزیر خارجہ نے داسو واقعے کی تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والی پیش رفت اراکین کونسل کو آگاہ کیا اور کہا پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا، افسوسناک ہے، پاکستان، خطے میں تعمیر و ترقی اور روابط کے فروغ کیلئے کیلئے، قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے، افغانستان میں اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا، پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور دیگر اہم سفارتی امور کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر