لاہور(نیشنل ٹائمز) سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹریڈیشن بن گئی ہے کہ جب ایک گورنمنٹ کی چھٹی ہوتی ہے توچھٹی کے پیچھے سازش ہوتی ہے اور جو لوگ باہر بیٹھے ہوتے ہیں وہ سازش کررہے ہوتے ہیں،سازش کے ذریعے دو ، دوسال کے بعد نکالا جا تا ہے ، ان کی حکومت ختم کردی جاتی ہے ، جن کو نکالا جاتا ہے وہ اپوزیشن میں آجاتے ہیں،پھر اپنے مخالفین کا منہ بند کرنا ہوتا ہے ،انہیں جیل میں ڈالا جاتا ہے ،پھر جب ان کی باری آتی ہے تو یہ بھی اپنے مخالفین کے ساتھ وہی کرتے ہیں، دنیانیوزکے پروگرام \’\’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا سب کو پتا ہے جمہوریت پہلے دن سے جب پاکستان بنا اس کے بعد جوجمہوری راستے تھے ان کو بند کرنا شروع کردیا گیا،پہلے تو آئین نہیں آنے دیا جارہا تھا، 73 کا آئین آیاجبکہ آزادی 1947 میں ملی،پھر اس قانون میں ترمیم ہونا شروع ہو گئی اور ہر ترمیم میں جمہوریت کو کم کیا گیا۔بات یہ ہے کہ دو ہاتھ سے تالی بجتی ہے ، ایک طر ف سول ملٹری بیوروکریسی تھی،جنہوں نے پاور سونگھ لی تھی، دوسری طرف سیاستدان تھے جن کی کوئی ٹریننگ نہیں تھی،پھر یہ توقع کی جائے کہ سیاستدان ایک دوسرے کے ساتھ انتقامی کارروائی نہ کریں، ایسا تو نہیں ہوسکتا، یہ کرتے ہیں،سب نے دیکھا ہے جب عمران خان اقتدارمیں آئے جو اس نے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا آج تک کسی نے ایسا نہیں کیا،یہی ڈر ہے عمران خان سے ،کہ اگر یہ دوبارہ آگئے تو انہوں نے وہی حرکت کرنی ہے جو پہلے کی تھی توپھر کیسے نظام چلے گا، پھر سازشیں شروع ہوجائیں گی،ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے ،پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو چاقو نہیں گھونپیں گے ،کیونکہ اس کا فائدہ کوئی اور اٹھا لیتا ہے ،جب وقت آیا تو سب نے دیکھا ، جو جمہوری ممالک ہیں وہاں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں،پاکستان میں تنگ نظریہ ہے ،پھر یہ ہے کہ سیاستدان خود اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوسکتے ،یہ پاور سازش کرکے لیتے ہیں،یہ ہے حالت۔
آئین کی ہر ترمیم میں جمہوریت کو کم کیا گیا:نجم سیٹھی



