تحریر:عابد حسین قریشی
کسی نے پوچھا محبت کیا ہوتی ہے، جواب آیا کہ یہ جب ہوجاتی ہے، تو پتہ چلتا ہے، کہ ہو گئی۔ یہ بنجر اور ویران دلوں میں کم ہی بسیرا کرتی ہے۔ محبت ایسا نغمہ ہے، جو ہر دل میں نہ گایا جاتا ہے، نہ سمایا جاتا ہے، اور نہ ہی بسایا جاتا ہے۔ یہ بے سود و زیاں، بے خودی و سرمستی، آشیفتگی و وارفتگی، سرشاری بھی اور دلنوازی بھی، محبت تو دل کی زبان ہے، جسکی سرسراہٹ اور خامشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے، ایک تکلم اور اظہاریہ ہوتا ہے، دل والے تو محبت کے اشارے بھی سمجھ جاتے ہیں۔ محبت اگر سچی ہو تو عشق، جھوٹی ہو تو ہوس، ناکام ہو تو اچھا خاصا بندہ شاعر بن جاتا ہے، یکطرفہ محبت خطر ناک، کہ نہ تڑپنے کی خبر، نہ مچلنے کی، ہر آہٹ پر محبوب کے آنے کا گمان، اور ہر ادا غائبانہ طور پر دل کی دھڑکن، ناکامی کے سو فیصد امکان کے باوجود پر امیدی اور یقین کوئی یکطرفہ عاشق زار سے سیکھے۔ محبت مل جائے تو شادی، نہ ملے تو دل میں بیقراری، محبت دکھنے میں دلکش، محسوس کرنے میں راحت و سرور،کامیابی میں تان سین کا راگ اور ناکامی میں نالہ و آہ و زاری، محبت لوگوں کو جینے کا ڈھنگ سکھا دیتی ہے، زیبائش و آرائش کا گر بتا دیتی ہے، حسن تکلم میں نکھار ، تبسم میں وقار ، رویوں میں قرار، دلوں میں پیار، لبوں پر اظہار اور آنکھوں میں شرار۔ محبت ایک راز ہے، دلوں کا ساز ہے، ایک اسرار ہے، دل بے چین کی آواز ہے، عاشقی کا ناز ہے، اسی سے دلوں کی کلیاں چٹختی ہیں، گلوں پہ بہار ہے، محبت تو دلوں کا قرار ہے، مگر محبت کی روح تو وہ جنس ہے جو آج کے بازار میں نایاب ہے۔تو پھر محبت کو کہاں ڈھونڈیں، سنگیوں کے میلوں میں، چاہنے والوں کے ریلوں میں، یا دنیا کے جھمیلوں میں، اگر نہ مل سکے، تو اسے چاہت کے بازار میں، جذبوں کے شرار میں، الفت کے سنسار میں، دلوں کے قرار میں، جذبوں کی للکار میں، نفرت سے انکار میں، سچے جذبوں کے پیار میں، کہیں نہ کہیں تو مل ہی جائے گی۔اگر دل کو ہی ٹٹول لیں، تو ممکن ہے، محبت کے کچھ شرارے دل کے کسی گوشہ میں پناہ گزیں ہوں، مگر اسکی حرارت تو من کو جلا دیتی ہے، اسے تو ہلکی آنچ پر سینکنا پڑتا ہے، جس محبت میں تڑپ نہ ہو، وصال یار کی چاشنی اور غم ہجر کی کسک نہ ہو، وہ کیسی محبت، محبت میں اگر بیقراری ہو تو محبت کی آشفتگی اور وارفتگی میں لطف، چاہے جانے والا قریب ہو تو محبت بے کیف و بے ذائقہ، اگر دور ہو تو لطف دوبالا۔کہ عشق کا انداز ہے نرالا،جسے سمجھ سکا نہ زمانہ۔ مگر محبت کا ایک اور پہلو اللہ اور اسکی مخلوق سے محبت بھی تو ہے، جس سے دلوں کا قرار، آسودگی اور راحت ہے۔ اور جب کوئی اللہ سے محبت کرتا ہے، تو جواب میں محبت ہی ملتی ہے۔ دنیا کی محبت میں دھوکہ اور جھوٹ ممکن ہے مگر اللہ کی محبت تو خالص ہے، صرف آزمائش شرط ہے۔مگر آخری بات کہ محبت تو بانٹنے والی چیز ہے، لیکن اگر کسی دل میں محبت نہیں تو وہ کم ظرف کیا بانٹے گا، وہ تو خود محبت کا محتاج ہے۔



