میری کے ٹو کہانی(چودھویں قسط)

علی کیمپ سے جی جی لا

۲۹ جولائی ۲۰۲۵

تحریر: سعدیہ نارو

علی کیمپ میں پہنچے ہوئے ہمیں سات گھنٹے گزر چکے تھے۔ رات کے ساڑھے نو کا وقت تھا اور اندھیرے میں ڈوبے خیموں میں موجود ہم سب روانگی کے اعلان کے منتظر تھے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میرے دل میں اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ اسی دوران میرے خیمے کے باہر لوگوں کی آوازیں آنے لگیں اور تقریباً دس بجے مجھے نور عالم کی آواز آئی،

“باجی تیار ہو جائیں اب ہمیں نکلنا ہو گا۔”

بالآخر وہ وقت آ گیا جب ہمیں جی جی لا کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا۔

میں نے اپنا سلیپنگ بیگ سمیٹا اور بیگ پیک کر کے پورٹرز کے لیے خیمے سے باہر رکھ دیا۔ اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے کر میں خیمے سے باہر نکل آئی اور اردگرد کی صورتحال کو بھانپنے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کیمپ میں ایک عجیب افراتفری اور نفسا نفسی کا عالم ہے۔ تمام عملہ اپنی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں مصروف کار نظر آرہا تھا جبکہ سامنے بڑے خیموں میں میرے گروپ کے باقی ساتھی بھی اپنی اپنی تیاری میں مگن تھے۔ دائیں بائیں برف سے ڈھکے بلند پہاڑ خاموشی اور اسرار کی چادر اوڑھے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔

ہم گروپ ممبران تو اس مہم پر پہلی دفعہ آئے تھے لیکن جی جی لا کا سفر مقامی پورٹرز کے لئے بھی آسان نہیں تھا۔ سفر کے آغاز سے پہلے تمام پورٹرز ایک گروپ کی صورت میں جمع ہوکر اجتماعی دعا کے بعد نادِ علی کا ورد کرنے لگے اور ان کی عاجزانہ دعاؤں سے کیمپ میں ایک تقدس کی سی فضا بن گئی۔ رزق کمانے اور پیٹ پالنے کی سعی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ ہر پورٹر نے بیس کلو وزن اُٹھا کر جی جی لا پار کرنا تھا۔ ان کے لباس اور جوتے اگرچہ اس سخت سفر کے متحمل نہیں تھے لیکن ان کی ہمت ان پہاڑوں سے کہیں زیادہ بلند تھی۔ پہاڑوں کی آغوش میں پلنے بڑھنے والے ان لوگوں کی جانفشانی اور سخت جانی واقعی سراہے جانے لائق ہے۔

تقریباً پونے گیارہ بجے نور عالم میرے اور میرے ساتھی کے پاس آیا اور ہمیں چلنے کا اشارہ کیا۔ میں اپنی تیاریوں کو آخری دفعہ چیک کررہی تھی کہ عین اس وقت مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری ہیڈ لائٹ آن نہیں ہو رہی۔ حالانکہ لاہور سے چلنے سے پہلے میں نے اسے دیکھ بھال کر خوب تسلی کر لی تھی اور اس میں سے پرانے سیل نکال کر نئے ڈالے تھے۔ میرے ڈے بیگ میں ایک جوڑی سیل زائد موجود تھے۔ نور عالم نے مجھ سے لے کر وہ سیل ڈال دئیے۔ لائٹ کچھ دیر کے لئے آن ہوئی لیکن میرے پہنتے ہی دوبارہ بند ہو گئی۔ بنا ہیڈ لائٹ کے رات بھر پتھروں اور برف پر سفر کا سوچ کر میرا دل بیٹھنے لگا۔ نور عالم نے میری پریشانی کو بھانپ لیا اور اپنے مخصوص معصومانہ لہجے میں بولا،

“باجی آپ میرے ساتھ میری لائٹ کی روشنی میں چلیں۔”

رات دس بج کر ترپن منٹ پر نور عالم کی رہنمائی میں ہم چار لوگوں نے سفر کا آغاز کیا۔ میں، میرا ساتھی، عاطف اور ان کا ذاتی پورٹر ایک قطار میں چلنے لگے۔ سفر کا آغاز ہی پتھریلی چڑھائی سے ہوا۔ میں نور عالم کے پیچھے چل رہی تھی لیکن اس کی ہیڈ لائٹ کی روشنی میرے لیے نا کافی تھی۔ ہمارے اردگرد گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا اور ہر پتھر جیسے آزمائش بن کر سامنے آ رہا تھا۔

میں متوازن رفتار سے نہایت دیکھ بھال کر پتھروں پر قدم جما کر چلتی رہی۔ ہیڈ لائٹ کی خرابی نے سفر کی دشواری کو مزید بڑھا دیا تھا۔ میرا دل اس وقت نہایت ملول تھا لیکن سب کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ کچھ ہی وقت گزرا ہو گا کہ میرے ماتھے پر لگی ہیڈ لائٹ خود بخود آن ہو گئی۔ اپنے قدموں پر پڑتی روشنی کو دیکھ کر یوں لگا جیسے اندھے کو آنکھیں مل گئی ہوں۔ مسلسل چڑھائی کا سفر مشکل تو تھا ہی لیکن روشنی ہونے سے سہولت ہو گئی ۔

شدیدسردی میں سست قدموں اور بھاری سانسوں کے ساتھ ہمارا سفر جاری تھا۔ اسی دوارن بابر اور طہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ ہمارے دائیں بائیں اندھیرا اور پیچھے جگنوؤں جیسی روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں۔ ان ننھی روشنیوں کے ساتھ متحرک سائے تھے جو ہمارے ساتھی ٹریکرز اور پورٹرز تھے۔ پورٹرز کچھ قریب آتے تو ہم سائیڈ پر ہو کر انہیں آگے بڑھنے دیتے۔ ربڑ کے جوتوں کے اوپر جرابیں پہنے، روز مرہ کے لباس میں ملبوس، کمر پر بوجھ اٹھائے ان پورٹرز کی چال میں ایک عجیب طرح کی خود اعتمادی دیکھ کر ہم سب کا حوصلہ تو بڑھتا ہی لیکن ان کو راستہ دینے کے لئے رکنے سے ہمیں کھڑے کھڑے سستانے کا موقع بھی مل جاتا۔ ہمارے پاس پانی محدود مقدار میں تھا اس لیے گھونٹ پانی سے گلا تر کرتے اور پھر چلنے لگتے۔

چلتے چلتے ایک جگہ پر سترہ سالہ طہ نے گھبرا کر اپنے انگریزی لہجے میں کہا،

“رکو، میرا ابو پیچھے رہ گیا ہے۔”

اپنے والد کے لیے اس کی فکر اور گھبراہٹ دیکھ کر میں مسکرائی اور اسے تسلی دی اور ہم سب رک کر بابر کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ہانپتے ہوئے پہنچ گئے۔ اس بلندی پر ہم سب کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا لیکن سب کمال ہمت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

نور عالم کی رہنمائی میں اس پتھریلے اور برفیلے راستے پر چلتے ہوئے ہمیں تقریباً ڈھائی گھنٹے گزر چکے تھے۔ برفیلی دراڑوں اور شگافوں سے بھرے اس راستے سے نور عالم بخوبی واقف تھا۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے ہم جی جی لا کی بیس پر پہنچ گئے۔ میرے سامنے ایک برفانی دیوار تھی جس پر روشن نقطے ایک قطار میں حرکت کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ دراصل یہ ٹریکرز تھے جو اس برفانی درے پر لگی رسی کی مدد سے اس سرد اندھیری رات میں بلندی کا سفر طے کر رہے تھے۔ جلد ہی میں بھی اس رسی کو تھامے جی جی لا پار کرنے والی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر میرے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ وہ موقعہ اور مقام جس کے متعلق میں نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا اب لمحہ موجود بن چکا تھا۔

بیس پر پہنچ کر میں نے اپنا بیگ اُتارا اور اس میں سے ہیلمٹ، کریمپونز، ہارنیس اور جمار نکال کر نور عالم کی مدد سے پہننے لگی۔ اس دوران عاطف بھی اپنے پورٹر کے ساتھ تیار کھڑے تھے جبکہ طہ اور بابر نظر نہیں آرہے تھے۔ تقریباً پونے دو بجے نور عالم نے مجھے اور میرے ساتھی کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے رسی کے ساتھ اپنا ہارنیس اور جمار لگایا۔ نور عالم مجھ سے آگے اور میرا ساتھی میرے پیچھے تھا۔ میں نے نرم برف پر پہلا قدم رکھا اور دنیا کی ہر چیز بھول گئی۔ دماغ میں بس ایک ہی بات تھی کہ میری زندگی کا ایک مشکل امتحان شروع ہو چکا ہے اور مجھے اس میں سرخرو ہونا ہے۔

میرے سامنے برفانی چڑھائی تھی اور ایک نا قابلِ واپسی سفر شروع ہوچکا تھا۔ میں رسی پر جمار کی مدد سے قدم قدم آگے بڑھنے لگی۔ کچھ جگہوں پر برف ایسی نرم تھی کہ آدھی ٹانگ اندر دھنس رہی تھی۔ پہلے گزرنے والے لوگوں کے قدموں کے گہرے نشان دیکھ کر میں اندازہ لگاتی کہ مجھے ان پر قدم رکھنا ہے یا زرا فاصلے پر اور یہ فیصلہ فوری اور بنا رکے کرنا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد رسی کی گرہ آتی جو برف پر کھونٹی کے ساتھ بندھی ہوتی۔ وہاں رک کر ہم پہلے ہارنیس کھول کر گرہ سے آگے رسی پر اسے لگاتے اور پھر جمار لگا کر آگے بڑھنے لگتے۔

اس وقت جی جی لا کی رسی پر کئی گروپس قطار میں عازمِ سفر تھے۔ ان میں سعدیہ مقبول کا گروپ، چائینہ اور جرمنی سے آئے ٹریکرز کے دو گروپ الگ الگ چل رہے تھے۔ رسی پر رکنے کا مطلب تھا آپ سے پیچھے آنے والے سب لوگوں کو رکنا پڑے گا اور اتنی سردی میں وہاں زیادہ دیر رکنا باقی ٹریکرز کو تکلیف میں ڈالنا تھا۔ اس لحاظ سے جی جی لا پار کرنا ایک ذاتی ایڈوینچر کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی ذمہ داری بھی تھی۔

رسی پر صرف لمحہ بھر کھڑا ہو کر ہی سستانا ممکن تھا۔ اس سے الگ ہو کر بیٹھنا خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ اپنی ہیڈ لائٹ کی روشنی میں چڑھائی چڑھتے ہوئے میں اس بات سے مکمل لا علم تھی کہ میرا ساتھی میرے پیچھے نہیں آ رہا اور وہ نیچے کسی مشکل میں پھنس چکا ہے۔ میں تھک رہی تھی اور سانس بھی حلق میں اٹکنے لگی تھی۔ میں نے نور عالم کو رکنے کا کہا اور اس نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر مجھے رسی سے الگ کیا اور برف پر میرے بیگ کا کور بچھا کر بیٹھنے کی جگہ بنا دی۔ تبھی مجھے اپنے ساتھی کے میرے پیچھے نہ ہونے کا پتہ چلا۔ میں نے وہاں سے اپنے ساتھی کو اس کے نام سے کئی بار پکارا لیکن میری آواز اس تک پہنچ نہ پائی۔ کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد ہم دوبارہ رسی سے آن جڑے۔ سفر کا آغاز تو کردیا لیکن میں اپنے ساتھی کی سلامتی کے لئے فکرمند تھی۔

جی جی لا پر لگی رسی کی ہر گرہ پر ہارنیس اور جمار اُتار کر آگے لگایا جاتا اور ایسے میں میں اپنے سانس کو بحال کرنے کی کوشش کرتی۔ صبح کے تقریباً سوا چار کا وقت ہو گا جب نور عالم نے کہا،

“باجی ہم ٹاپ پر پہنچنے والے ہیں۔”

یہ جملہ سنتے ہی جیسے میری جان میں جان آ گئی۔ میں نے اپنی بچی کچھی ہمت اور توانائی جمع کی اور آخری برفیلی چڑھائی چڑھنے لگی۔ صبح کے چار بج کر آٹھائیس منٹ پر میں، عاطف، نور عالم اور ان کا پورٹر جی جی لا ٹاپ پر پہنچ گئے۔ صبح صادق کا وقت تھا اور وہاں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ اس دھندلے ماحول میں عجیب سی پراسرار خاموشی تھی۔ آسمان جیسے جھکا ہوا تھا اور ہم بلند و بالا چوٹیوں سے کچھ نیچے ایک برفانی چھت پر کھڑے تھے۔

اس برفانی چھت پر کھڑے ہو کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ نہ فتح کا شور تھا، نہ شکست کا اندیشہ۔ بس ایک خاموش سا اعتراف کہ انسان اگر ارادہ کر لے تو اپنے اندر کے اندھیروں، کمزوریوں اور خوف سے بھی اونچا اٹھ سکتا ہے۔ میرے لیے جی جی لا محض ایک درہ نہیں بلکہ ہمت، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کا ایک امتحان ثابت ہوا تھا۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ لیکن آنکھوں میں نمی تھی۔ نور عالم نے مجھے اس کامیابی پر مبارک باد دی اور میں نے اس کی مدد اور رہنمائی کا صدقِ دل سے شکریہ ادا کیا۔

جاری۔۔۔



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر