لاہور (نیشنل ٹائمز)پنجاب اسمبلی نے متعدد اہم مسودہ قوانین کی منظوری دے دی جبکہ پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے کشمیر کے حق میں قرارداد بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔ اجلاس ایجنڈا مکمل ہونے پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس منگل کے روز تین گھنٹے تیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے کی۔ اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا، پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد طارق نے اراکین کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ اس موقع پر حکومتی رکن امجد علی جاوید نے مطالبہ کیا کہ اربن یونٹ کے بورڈ میں منتخب عوامی نمائندوں کو شامل کیا جائے کیونکہ اپنے حلقوں کے مسائل عوامی نمائندے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ایوان میں پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیر کے حق میں قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی۔قرارداد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔اجلاس کے دوران سینئر سٹیزنز ویلفیئر پنجاب بل 2025، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025، معذور افراد کو بااختیار بنانے سے متعلق ترمیمی بل، کنٹرول آف نارکوٹکس ترمیمی بل، کریمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل، ضابطہ فوجداری ترمیمی بل، صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2026، ایکوا کلچر اتھارٹی بل 2026، وقف املاک پنجاب ترمیمی بل 2026 اور دی پنجاب لیبر کوڈ بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے ۔اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن وقاص مان نے بانی پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقات نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا، جس پر پارلیمانی سیکرٹری قانون خالد رانجھا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے تمام کیسز میں وکیل مقرر ہیں اور اگر کسی قسم کی شکایت ہے تو عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔
پنجاب اسمبلی :کشمیر کے حق میں قرارداد کثرتِ رائے سے منظور



