تحریر: عابد حسین قریشی
خوش رہنا، خوش ہونا اور خوش نظر آنا، مختلف کیفیات ہیں۔ کسی کو خوش کرنا، کسی کی خوشی میں شریک ہونا، اور کسی کی خوشی کو برداشت کرنا، یہ بھی الگ الگ کیفیات ہیں۔ آپ خوش ہیں اور دوسرا خوش نہیں اور آپ کو اسکی پرواہ بھی نہیں تو آپکے اندر خرابی ہے، دوسرا کیوں خوش ہے، اور آپ اس پر مضطرب ہیں، تو مسئلہ پھر آپ کا ہی ہے۔ خوشی کو define کرنا اتنا آسان بھی نہیں، کہ ہر کسی کی خوشی کی وجہ، دورانیہ، اور انداز دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ مگر یہ خوشی ملتی کہاں سے ہے اور کیسے۔ اصل سوال تو یہی ہے، کچھ لوگ اسے مال و دولت کی کثرت، بنگلہ و گاڑی، پر تعیش طرز زندگی میں ڈھونڈتے ہیں، کچھ اپنی اور اپنی اولاد کی کامیابیوں میں، کچھ سیر و سیاحت اور کچھ دوستوں کی محفل میں،اور کچھ کیف و مستی میں، یہ ساری وجوہات ہی خوشی کا باعث ہو سکتی ہیں، مگر یہ سب عارضی چیزیں ہیں، لہزا ان سے ملنے والی خوشی بھی عارضی ہی ہوگی۔ تو کیوں نہ دیرپا خوشی کو تلاش کیا جائے۔ یہ کہاں سے ملتی ہے، یہ خوشی دلوں کے اطمینان سے، قناعت و شکر گزاری سے، اچھی صحت سے، اللہ کی یاد سے، کسی حاجت مند کی حاجت روائی سے، مخلوق خدا سے پیار اور خدمت میں، کسی ہمدم دیرینہ کی صحبت میں، کسی دلپسند موسیقی کی مدھر دھنوں میں، اور سب سے بڑھکر ہر مثبت بات سے خوشی کشید کرنے سے۔ خوش رہنا اور خوشیاں تقسیم کرنا ایک مقدس فریضہ ہے، جو دلی جزبات کا مظہر ہوتا ہے، مگر لوگوں کو اس طرح خوش رہنا آتا نہیں۔



