تحریر: شاویز احمد
یہ 1967ء میں کراچی کے علاقے بہادر آباد کی ایک چھوٹی سی دکان کا منظر ہے۔
کریانہ دکان کے مالک حسین عباسی اب بوڑھے ہورہے تھے اور بیمار رہنے لگے تھے چنانچہ انہوں نے اپنے نوجوان بیٹے امتیاز حسین عباسی کو اپنے ساتھ دکان پر لگا لیا۔ امتیاز جب پہلی بار دکان پر آیا تو اس نے دیکھا کہ دکان پر سب بکھرا پڑا ہے۔ اس نے دکان کی صفائی کی اور ہر چیز انتہائی نفاست اور سلیقے سے ترتیب دی۔ یہ امتیاز کا کام پر پہلا دن تھا۔ پھر امتیاز صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک مسلسل دکان پر کام کرنے لگا۔۔۔ دن مہینوں اور مہینے سال میں بدلتے چلے گئے۔ پھر 1971ء میں پاکستان پر دشمن کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے باعث مغربی پاکستان میں بھی غذائی قلت پیدا ہوئی تو اس سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان نے غریب عوام کیلئے سستے راشن کی تقسیم کا پروگرام شروع کیا۔ ہر شہر میں مخصوص دکانوں کے ذریعے سستے راشن کی تقسیم شروع ہوئی۔ بہادر آباد میں امتیاز کی کریانہ کی دکان انہی مخصوص دکانوں میں تھی تو لوگوں کی قطاریں لگنے لگی۔۔۔۔ کریانہ سٹور کی سیلز بہت بڑھ چکی تھی۔ امتیاز نے مفت راشن سے فائدہ اٹھانے والے افراد کا اندراج کرنا شروع کیا اور امتیاز کی کریانہ کی دکان سے وابستہ مستقل گاہکوں کی درج شدہ تعداد 35 ہزار ہو چکی تھی۔ سستے راشن کی تقسیم کے پروگرام بند ہونے کے بعد امتیاز اور ان کے والد عباسی صاحب نے ایک آئیڈیا کے تحت اپنے علاقے کی پہلی ڈیلیوری سروس شروع کی۔
یہ بہادر آباد کراچی کے علاقے میں ایک انوکھی چیز تھی کہ ایک کریانہ سٹور چلانے والا تین پہیوں والی سائیکل پر گھر گھر سامان بیچ رہا تھا۔
کریانہ دکان کا منافع دوگنا چوگنا ہورہا تھا اور امتیاز حسین عباسی ایک نو عمر لڑکے سے جوانی میں داخل ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ تبھی وہ سنگا پور کے ایک سپر سٹور بنام مصطفیٰ سپر مارکیٹ سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنی کریانہ کی دکان کو سپر مارکیٹ تک لے جانے کا عزم کیا۔
انہوں نے اپنی کریانہ دکان کیلئے مزید جگہ خریدی اور دکان کو کشادہ کیا۔ کراچی میں پہلی بار لوگوں کو ایک چھوٹا ہی سہی مگر سپر مارکیٹ کا تجربہ دیا جو عوام میں مقبول ہوا اور رش کی وجہ سے دکان چھوٹی پڑ گئی سو انہوں نے ایک نئی جگہ خریدی اور وہاں پر مزید بڑا سٹور چلایا جہاں مزید رش کی وجہ سے وہ جگہ بھی کم پڑ گئی۔ اب امتیاز عباسی صاحب نے بہادر آباد کی حدود سے باہر قدم رکھا اور عوامی مرکز میں اپنی نئی برانچ کھولی جس کا نام رکھا ” امتیاز سپر مارکیٹ “۔ یہ برانچ کھولتے ہوئے کئی لوگوں نے مشورے دیے کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ بہادر آباد سے باہر جانا ایک رسک ہوسکتا ہے۔ پہلا کاروبار تو سنبھال لو پہلے۔۔۔۔۔۔ لیکن امتیاز عباسی نے ہمت کرکے نئی برانچ کھول لی تو امتیاز سپر مارکیٹ کی سیلز 200 فیصد بڑھ گئیں اور یہاں سے امتیاز سپر مارکیٹ کی نئی برانچز کھولے جانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔
تو 2010ء میں ناظم آباد برانچ، 2013ء میں ڈی ایچ اے ، 2016ء میں گلشن اقبال
اور پھر امتیاز عباسی نے اپنی نگاہیں سندھ سے باہر پنجاب پر مرکوز کرلی تھیں۔
پنجاب کے شہر گجرانوالہ میں امتیاز سپر مارکیٹ کی پہلی برانچ کھولی گئی تو اتنا زبردست منافع ہوا کہ امتیاز عباسی کے مطابق وہ کراچی کو بھول گئے۔
گجرانوالہ کی پہلی برانچ کی کامیابی کے بعد سیالکوٹ ، لاہور اور پھر فیصل آباد، ملتان ، بہاولپور ، سرگودھا ، وہاڑی اور بعد ازاں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امتیاز سپر مارکیٹ ایک کے بعد ایک برانچ کھول رہا تھا۔
اور پھر آیا 2019ء کا سال جب ساری دنیا کرونا وائرس کا شکار ہوئی۔
امتیاز سپر مارکیٹ کے منتظمین امتیاز عباسی سے کہنے لگے کہ ” سر !!! سیلز 50 فیصد تک کم ہوچکی ہیں، ہمارے پاس 2200 ملازمین کو فارغ کرنے کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ “
امتیاز عباسی نے کہا کہ ” میں کسی کو بھی نہیں نکال رہا، بلکہ ہم 7 نئی برانچز کھولیں گے تاکہ مزید لوگوں کو روزگار مل سکے۔ ” منتظمین نے کہا کہ ” سر کیا آپ دس کروڑ روپے ماہانہ تنخواہوں کی مد میں نقصان برداشت کرلیں گے؟۔ امتیاز عباسی نے کہا کہ ” ان کا رزق نہ ہی میرے اور نہ ہی تمہارے اختیار میں ہے، بلکہ ان کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ ” کمپنی میں چہ میگوئیاں ہونے لگی کہ امتیاز عباسی بوڑھے ہورہے ہیں تبھی اس قسم کی باتیں کررہے ہیں اور شاید وہ کاروبار بھول گئے ہیں۔
البتہ امتیاز عباسی اپنے فیصلے کے پکے تھے۔ انہوں نے کرونا دور کے مشکل ترین وقت جب کارخانے، کاروبار ، ادارے سب بند ہورہے تھے اور لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے تب امتیاز عباسی نے امتیاز سپر مارکیٹ کی سات نئی برانچز کھول کر 5000 لوگوں کو نئے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ کمپنی ایڈمنسٹریشن تب حیران رہ گئی جب سات برانچز کھولنے اور 5000 نئے ملازمین بھرتی کرنے کے بعد امتیاز سپر مارکیٹ کے مستقل گاہکوں کی تعداد سات لاکھ سے بڑھ کر دس لاکھ ہوگئی۔
اس وقت امتیاز سپر مارکیٹ کے ملازمین کی تعداد 14000 تک پہنچ چکی ہے۔ آج امتیاز عباسی کی امتیاز سپر مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دو مزید برینڈز بھی شروع کیے ہیں۔ امتیاز عباسی کے مطابق وہ اپنے گاہکوں کو مستقل رکھنے کیلئے اپنی کمائی کا 30 فیصد مختلف ڈسکاونٹس اور آفرز کی صورت میں گاہک پر خرچ کرتے ہیں۔



