تحریر: عابد حسین قریشی
اک بھکاری ہے کھڑا، آپ کے دربار کے پاس
میں گناہ گار گناہوں کے سوا کیا لاتا
نعت کا یہ خوبصورت شعر، نعت خواں کی مسحور کن آواز اور سحر انگیز ترنم اور طرز، کچھ نہ پوچھیئے ، کہ دل پر کیا اثر کر گئی۔ اگلے شعر سننے کا تو ہوش ہی نہ رہا۔ ایک یہی شعر بار بار سنتا۔ اس نے دل کے وہ تار بھی ہلا دیئے، جو شاید مدت سے بے حس و ساکت پڑے تھے۔ سرکار مدینہ صل للہ وآلہ وسلم کے دربار کا نقشہ آنکھوں میں سجا ہے، چشم تصور میں دربار مصطفٰی پہ کھڑا ہوں۔ آنسو ہیں کہ تھم ہی نہیں رہے،زبان کو طاقت گویائی نہیں، دل کی زبان سے بس یہی عرض کر رہا ہوں، کہ اک بھکاری ہے کھڑا سرکار آپکے پاس، اور یہ گنہا گار گناہوں کے سوا کیا لاتا۔ میرے پاس تو گناہوں، غلطیوں اور لغزشوں کی ایک نہ ختم ہونے والی لسٹ ہے، میرے پاس تو ان لغزشوں پر آنسو بہانے اور معافی مانگنے کے علاوہ کوئی سوغات بھی نہیں جو میں سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر سکتا۔ دل کا ہر دکھ اور ہر فریاد لئے یہ بندہ حاضر ہے، اس دربار پر جو اللہ تعالٰی کے محبوب ترین نبی مکرم حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دربار ہے، جہاں دعائیں سنی جاتی ہیں، اور انکا مداوا بھی ہوتا ہے۔ لوگ ساری زندگی اس دربار پر حاضری کی حسرت لئے دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر یہ سعادت نصیب نہیں ہوتی۔ میں تو سرکار چشم تصور سے آپکے روبرو حاضر ہوں۔ میرے دل کا قرار اور چین تو آپکی نگاہ التفات میں ہے۔ اپنے اللہ سے میری سفارش تو فرما دیں، کہ یہ اس گناہ گار کے پاس گناہوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میرے کریم آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے بہتر اس دل کی کیفیت اللہ کے سوا کون جانتا ہے، یہ گناہ گار تو صرف آپکا ہی ثنا خواں نہیں، آپکی اہل بیت کا بھی غلام ہے۔ سیدہ کائنات، آبروئے اسلام بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا واسطہ دوں، یا آپکے دوست، بھائی اور داماد مولا علیہ السلام کا۔ یا حسنین کریمین کا، بس اک نظر کرم اس گناہ گار پر، جسے آپ کے دربار پر پیش کرنے کے لئے ان آنسوؤں اور سسکیوں کے سوا کچھ ملا بھی تو نہیں۔ آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہی تو وجہ تخلیق کائنات ہیں، آپ ہی کے دم سے سے ساری بہار ہے، آپ کے دم سے ہی تو دلوں کا سرور اور قرار ہے۔ یہ در چھوڑ کر یہ خطا کار کہاں جائے، آپ کے سوا گناہ گاروں کی سنتا بھی کون ہے۔
اک بھکاری ہے کھڑا، آپ کے دربار کے پاس



