عابد حسین قریشی
آجکل زیادہ تر لوگ بظاہر فارغ ہیں، مگر انکے پاس وقت نہیں۔ کہ وہ کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔ اب کتاب پڑھنا تو دور کی بات ہے، لوگ اخبار پڑھنا بھی چھوڑ گئے۔سوشل میڈیا پر چار پانچ سطروں سے زیادہ پڑھنے کی سکت نہیں رہی۔ سوشل میڈیا کی ایسی لت لگی ہے، کہ ایک ہی چھت تلے چار پانچ آدمی بیٹھے ہوں، تو خاموشی میں عافیت کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی دوسرے سے بات کرنے پر تیار نہیں، کہ سب کی نظریں اپنے اپنے سیل فون پر جمی ہیں۔ کسی کو کسی کا ہوش نہیں۔ چند روز قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا، جس میں دو تین جملے چونکا دینے والے تھے، مگر آرٹیکل کی طوالت کی وجہ سے دوستوں کی نظر میں نہ آسکے۔ عرض کیا تھا، “” کہ اپنا محاسبہ تو شاید ممکن نہیں ہوتا، مگر مشاہدہ ہی کر لیں تو بڑی بات ہے، میں کیا ہوں، کیوں ہوں، ہوں بھی کہ نہیں، کبھی کبھار ان سوالات کا سامنا کریں۔”” اسی طرح بڑھاپے کا ذکر کرتے یہ لکھا کہ”” کہ بوڑھاپے کے آغاز کو تو لوگ چاہے نچائے قبول کر لیتے ہیں، مگر اسکے انجام سے ڈرتے ہیں، کہ بوڑھاپا زندگی اور اپنوں کے بہت سے رخ بے نقاب کر دیتا ہے، بہت سی تلخ حقیقتیں آپ پر منکشف ہوتی ہیں، بہت سے لوگ جو ایک وقت میں آپ پر واری نیاری ہوتے ہیں، چہرے کی سلوٹوں سے گبھرانا شروع کر دیتے ہیں۔”” یہ زندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں، مگر ہم ان سے آنکھیں چراتے ہیں۔ہم اس دنیا میں مگن ہیں، جسے اللہ کی کتاب کھیل تماشہ کہتی ہے، زندہ رہنا، زندگی گزارانا اور با مقصد زندگی گزارنے میں فرق ہے، بہت سے لوگ زندہ ہوتے ہیں جب تک سانس چلتی ہے، اور کچھ زندہ رہتے ہیں خواہ سانس بند بھی ہو جائے، دوسری طرح کے لوگ کمیاب سہی مگر کامیاب ہوں گے۔ کہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے۔ یہ فرق کیسے سمجھ آئے گا۔
یہ فرق سمجھتے عمر بیت جاتی ہے۔



