چیف جسٹس پاکستان نے خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی کو نااہل قرار دے دیا

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی کو نااہل قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم کو شرم آنی چاہیے بیوروکریسی کام نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے،افسران سمجھتے ہیں اسکولوں کے لیے مختص شدہ پیسہ ان کے لئے ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اکتوبر2005 کے قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ تعلیم خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیحات میں کم ترین اہمیت پر ہے، زلزلہ کے 16 سال گزرنے کے بعد بھی اسکول تعمیر ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے، اربوں روپے مختص ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جن علاقوں میں اسکول بنے وہ بھی مکمل فعال نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں پورے ملک کے مقابلے میں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسکول تو ہیں نہیں شرح خواندگی کیسے زیادہ ہوگئی؟ خیبرپختونخوا حکومت نے اسکولوں کی عدم تعمیر کا ملبہ ایرا پر ڈال دیا، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے موقف اختیار کیا کہ زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی ایرا کی ذمہ داری تھی، صوبائی حکومت کو فروری 2020 میں متاثرہ علاقوں کا کنٹرول ملا۔ قائم مقام چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ نشاندہی پر عدالت کا مشکور ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مشکور نہ ہوں قوم سے اپنی نااہلی پر معافی مانگیں۔ دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے تعلیم کاروبار بن چکا ہے اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے تعلیم کا کاروبار پھیل رہا ہے، پرانا نظام چاہیے جہاں سب برابری سے پڑھتے تھے۔ چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی کو نااہل قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سارا گورکھ دھندا صرف پیسہ ادھر ادھر گھمانے کے لئے ہے، گورنر، سی ایم ہاس اور افسران کے گھر دیکھیں کیسے شاندار ہیں، ایک دن پانی بند کریں تو آپ کی چیخیں نکل جائیں گی، افسران کے گھروں سے چھتیں ہٹا دیں تو آپ کو پتا چلے گا، افسران کے کمروں سے اے سی اور فرنیچر بھی ہٹا دینا چاہیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 16 سال سے بچے تعلیم سے محروم ہیں، خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم کو شرم آنی چاہیے، بیوروکریسی کام نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے، افسران سمجھتے ہیں مختص شدہ پیسے ان کے لئے ہیں، کیا پشاور اور مانسہرہ کے بچوں میں کوئی فرق ہے؟ کیا ملک میں سریا، سیمنٹ نہیں ملتا؟ ملک میں پیسہ بھی ہے اور تیار چھتیں بھی دستیاب ہیں، نیت کا فقدان ہے ورنہ تینوں چیزوں کو یکجا کیسے نہیں کیا جا سکتا، جاپان میں سونامی آیا انہوں نے چند ماہ میں پورا شہر بنا دیا، ایرا نے جو اسکول بنائے وہ کسی بھوت بنگلے سے کم نہیں۔ سپریم کورٹ نے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں تباہ ہونے والے 540 اسکولوں کو 6 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین ایرا کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں رپورٹ کے ہمراہ طلب کرلیا۔ صوبائی حکومت نے اسکولوں کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک سال کا وقت مانگا جسے عدالت نے مسترد کردیا، عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر