ورفعنا لک ذکرک۔(اپنی تیسری زیر طبع کتاب “”عجز عاجزانہ”: سے ایک منتخب اقتباس۔)

عابد حسین قریشی

اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ ہم نے آپ کی قدر و منزلت میں اضافہ کیا۔ یا ہم نے آپ کو بلندیوں پر فائز کر دیا۔اور ہم عنقریب آپکو اتنا عطا کریں گے، کہ آپ راضی ہو جا یئں گے۔ “”
یہ وہ اعلان ہے، جو خود اللہ تعالٰی اپنے محبوب ترین نبی مکرم حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن کریم میں فرما رہے ہیں۔ اعلان بھی ببانگ دہل، بغیر کسی لگی لپٹی کے اور اس وقت جب آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی مبارک کا مشکل اور کٹھن ترین مکی دور چل رہا تھا۔ کفار اور مشرکین مکہ ہر اذیت، ہر تکلیف اور ہر تہمت نبی آخرالزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر روا رکھے ہوئے تھے۔ ان کفار مکہ سے نہ آقا کریم کی عزت محفوظ تھی نہ ذات۔ وہ شمع توحید کی اس دلکش و دلپزیر روشنی کو ہی ختم کرنے کے درپے تھے، جو انکی زندگیاں بدلنے کے لئے فروزاں تھی۔ وہ ذات اقدس جو انہیں گمراہیوں کے گھپ اندھیروں سے روشنی اور نجات کے روشن جزیروں کی طرف لے جانا چاہتی تھی، یہ اسی چراغ منزل کو بجھانا چاہتے تھے۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے مٹھی بھر ساتھیوں پر ظلم و اندوہ کے پہاڑ کھڑے کر دیئے گئے۔ ہر زاویہ اور ہر پہلو سے انہیں تکالیف اور اذیتیں پہنچائی جا رہی تھیں۔ اللہ تعالٰی بھی عرش بریں پر محو حیرت تھا، کہ کس سخت گیر اور ہٹ دھرم قوم سے اپنے اس آخری نبی کا پالا پڑا ہے۔ جو انہیں ہدایت و نجات کے راستہ پر بلاتے ہیں، اور یہ کفار و مشرکین ہدایت کے نام سے ہی بدکتے ہیں۔ مگر اللہ تعالٰی تو یہ جانتے ہیں، کہ میرے اس آخری نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی اس معرکہ حق و باطل میں سرخرو ہونا ہے۔ اور انکا سرخرو ہونا توحید کے پیغام جاں فزا کو ابدی سربلندی و رفعت سے ہمکنار ہونا ہے، لہزا اللہ تعالٰی نے اپنے نبی آخرالزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمت اور حوصلہ افزائی کے لئے قرآن پاک میں یہ اعلان فرما دیا کہ” میرے محبوب کفار و مشرکین کی ان ریشہ دوانیوں اور ظلم و بربریت سے حوصلہ شکن نہ ہونا، کہ اللہ نے آپکا ذکر ہمیشہ کے لئے بلند فرما دیا ہے۔” یہ کوئی معمولی اعلان تھا، نہ ہی معمولی خوش خبری، بلکہ اس اعلان و خوش خبری میں سارے مستقبل کی پیش بندی تھی۔ قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے یہ پیغام تھا کہ محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہی بلند رہے گا، اللہ کے بعد ساری عزتیں اور احترام اسی نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی ہوگا۔ دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ۔ میں سب کو مانتا ہوں، مگر مصطفٰی کے بعد۔ آنے والے سارے زمانے اسی نبی مکرم کی شان، فضیلت، احترام و عقیدت کے گرد گھومیں گے۔ نہ کسی اور انسان کو یہ عزت، یہ مقام و مرتبہ ملے گا نہ کوئی اسکا تصور کر سکے گا۔ جس نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور قدر و منزلت خود اللہ تعالٰی بڑھا رہے ہوں، اسے کون کم کر سکتا ہے۔ مقام مصطفٰی سے تو واقف بھی اللہ تعالٰی کی ذات ہی ہے۔ قرآن کریم اول تا آخر اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کے بعد محبت مصطفٰی، پیروی اور تابعداری مصطفٰی، احترام و عقیدت مصطفٰی سے ہی مزین نظر آتا ہے۔ نبی آخرالزماں صل للہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے روشن آفتاب کی مانند ہیں، کہ جسکی شعاعیں ہر وادی و کوہسار، چمن و ریگستان کے کونے کونے کو روشن اور فروزاں کئے ہوئے ہیں۔ عالم ناسوت ہو یا عالم ملکوت ہر جگہ آقا کریم کی رحمت و کرم کا پرچم لہرا رہا ہے۔ غرضیکہ یہ وہ آفتاب و مہتاب ہے، کہ جسکی تابانیوں اور نور افشانی سے ارض و سما میں روشنی اور چمک ہے۔ ذکر مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چونکہ مالک کائنات خود بلند فرما رہا ہے، تو علامہ اقبال بھی اسی عشق رسول کی لہر میں کہہ رہے ہیں، کہ۔
وہ دانائے سبل، ختم الرسل مولائے کل جس نے۔ غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سیناء۔ نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر۔ وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یاسین، وہی طاہا۔ نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو بلند کرنے کی بہت سی وجوہات تھیں۔ وہ نبی آخرالزماں اور اللہ کے محبوب ترین نبی اور رسول تھے۔ وہ حامل قرآن بھی تھے، وہ قیامت تک آنے والے انسانوں اور زمانوں کے لئے رحمتہ العالمین بھی تھے۔وہ محسن انسانیت بھی تھے، اور ہیں، وہ افضل البشر اور افضل الانبیاء بھی ہیں، وہ راحت العاشقین اور شافع روز محشر بھی ہیں، وہ انسانیت کا فخر اور ناز بھی ہیں، اور وہ وجہ باعث تخلیق کائنات بھی ہیں۔ وہ سر تا پا مجسم اخلاق اور اول و آخر رشد و ہدایت کا منبع بھی ہیں۔ نہ ان جیسا پہلے کوئی نبی آیا، نہ قیامت تک آئے گا۔ نبوت کے کئی جھوٹے دعوے دار آئے اور آئیں گے، مگر محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک ہی ہیں، انکی تو خاک پا کی برابری کا بھی دعوٰی کرنا ممکن نہ ہے۔ انکی آخری نبوت کی گواہی تو اللہ تعالٰی نے خود قرآن کریم میں دی ہے۔ انہی نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو تو اللہ تعالٰی بلند فرما رہے ہیں۔ آج چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کیا دوسرا کوئی شخص اس دنیا میں آیا جسے محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم جتنی عزت و پذیرائی اور مقام و مرتبہ ملا ہے۔ مل بھی کیسے سکتا تھا کہ صرف محمد عربی کا ذکر بلند کرنے کا اعلان اللہ تعالٰی نے خود فرمایا تھا اور اللہ سے بڑھکر اپنے وعدوں کی پاسداری کون کر سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر