میجر جنرل محمد افتخار علی خان جو افواجِ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف بن رہے تھے، وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملنے آ رہے تھے۔ ان کا نعرہ تھا، اپنی غربت پر ناز کرو۔ وہ سرتاپا فوجی تھے۔ خوش مزاج تھے مگر کام کے معاملے میں نہایت سخت۔ عثمان مٹھا نے ازراہِ مزاح لکھا ہے کہ وہ ناشتے میں روزانہ بریگیڈیئر یا لیفٹیننٹ کرنل کچا کھا جاتے تھے، لیکن فوج میں نظم و ضبط اسی سختی سے بھی جنم لیتا ہے۔ ان کا انگریز دور کا پرانا جہاز ڈکوٹا پہاڑ سے نہ ٹکراتا تو کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی تقدیر آج مختلف ہوتی، لیکن فضائی حادثے میں اہلیہ سمیت شہید ہو گئے۔
13 دسمبر 1949ء کو طیارے کے المناک حادثے میں پاک فوج کے نامزد کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد افتخار علی خان سمیت 26 افراد شہید ہو گئے۔
13 دسمبر 1949ء کو وہ دلخراش واقعہ پیش آیا جو پاکستان خصوصاً پاک فوج کی تاریخ میں اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ 12 اور 13 دسمبر کی درمیانی شب پاک فوج کے نامزد سربراہ میجر جنرل محمد افتخار علی خان کا ہوائی جہاز جنگ شاہی (سندھ) کے نزدیک واقع کاروجبل نامی پہاڑی سلسلے سے ٹکرا گیا۔ اس المناک فضائی حادثے میں 42 سالہ میجر جنرل محمد افتخار علی خان، تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے بھائی قاضی موسٰی اور بریگیڈیئر شیر خان سمیت 26 افراد شہید ہو گئے۔
شہید محمد افتخار علی خان کو عنقریب پاک فوج کے مقامی کمانڈر انچیف بننے کا اعزاز ملنے والا تھا مگر بظاہر پائلٹ کی کوتاہی سے یہ خوفناک حادثہ پیش آ گیا۔ میجر جنرل محمد افتخار علی خان کے بڑے بھائی محمد اکبر خان کو ہندوستان میں کمیشن حاصل کرنے والے پہلے مسلم فوجی افسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
29 اگست 1929ء کو برٹش انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کرنے والے میجر جنرل محمد افتخار علی خان قیامِ پاکستان کے وقت میجر جبکہ قبل ازیں وہ برٹش انڈین آرمی میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر تھے۔ وہ برما اور جاپان میں جنگیں لڑ کر گرم و سرد تجربات کی بھٹی سے گزر چکے تھے۔ پھر سرگرم، محنتی، ذہین و فطین اور چست و چوبند فوجی افسر تھے۔ اسی لیے آپ کو ترقی دے کر 10 ڈویژن کا کمانڈر بنایا گیا۔ جنوری 1948ء میں آپ ایکٹنگ میجر جنرل بن کر لاہور پہنچ گئے تاکہ 10 ڈویژن کی کمان کر سکیں۔
پاک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل سر ڈگلس گریسی کی سبکدوشی کے بعد پہلے مقامی کمانڈر انچیف کے تعین میں اصل مقابلہ محمد اکبر خان (پی اے1)، این اے ایم رضا (پی اے7)، محمد ایوب خان (پی اے10)، محمد افتخار خان (پی اے14) اور نذیر احمد ملک (پی اے15) کے مابین تھا۔ محمد اکبر خان نے کمانڈر انچیف بننے سے معذرت کر لی۔ ان کا استدلال تھا کہ وہ اس عہدے سے وابستہ فرائض کی بجا آوری کے لیے مطلوبہ صلاحیتیں نہیں رکھتے۔
میجر جنرل نذیر احمد کو گورنر جنرل بھارت، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کمانڈر انچیف بنوانا چاہتے تھے۔ انہوں نے 7 مئی 1947ء کو قائداعظم کے نام خط میں موصوف کی سفارش کی تھی۔ لیکن اس سفارش نے قائداعظم اور وزیر اعظم کی نگاہوں میں نذیر احمد کا مرتبہ مشکوک بنا دیا، لہٰذا ان کا نام فہرست سے نکل گیا۔
این اے ایم رضا پاک فوج کے پہلے ایڈجوٹنٹ جنرل تھے۔ تاہم وہ میدانِ جنگ میں لڑنے یا ڈویژن کی کمان کرنے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ بھی مقابلے کی دوڑ میں نہیں رہے۔ اب محمد ایوب یا محمد افتخار میں سے کسی ایک کو پہلے مقامی کمانڈر انچیف بننے کا اعزاز ملنا تھا۔
اسی موقع پر ایک دلچسپ تکنیکی نکتہ سامنے آیا۔ محمد ایوب تاریخِ کمیشن (2 فروری 1928ء) کے لحاظ سے 19 ماہ سینئر تھے۔ لیکن وہ 9 جنوری 1948ء کو ایکٹنگ میجر جنرل بنے جبکہ محمد افتخار کو بتاریخ یکم جنوری 1948ء ایکٹنگ میجر جنرل کا عہدہ ملا تھا۔ گویا تازہ پروموشن کے معاملے میں محمد افتخار اپنے ساتھی سے زیادہ سینئر بن گئے۔
شیر علی خان پٹودی ڈیرہ دون کے رائل انڈین ملٹری کالج میں محمد افتخار شہید کے ساتھ زیرِ تعلیم رہے۔ اوائل 1948ء میں 10 ڈویژن کے پیرابریگیڈ کا کمانڈر بنائے گئے۔ وہ کنوارے تھے، اسی لیے انہوں نے ڈویژن کمانڈر (محمد افتخار) کے گھر قیام کیا۔ دونوں کے مابین قریبی تعلق رہا۔
پٹودی نے ان حیران کن دنوں کا تذکرہ اپنی انگریزی کتاب The Story of Soldering and Politics in India and Pakistan میں کیا ہے۔ شاہد حامد ہندوستانی شاہی فوج کے دستے 3 کیولری رجمنٹ میں محمد افتخار کے ساتھ رہے۔ وہ ایوب خان سے بھی قریبی تعلقات رکھتے تھے۔ ایوب خان دور میں ایڈجوٹنٹ جنرل رہے۔ ان کی انگریزی کتاب Early Years of Pakistan گزرے دنوں کا سراغ دیتی ہے۔
عثمان مٹھا نے جونیئر افسر کے طور پر محمد افتخار اور محمد ایوب کے ادوار دیکھے۔ مرحوم کی انگریزی کتاب Unlikely Beginnings: A Soldier’s Life ان ادوار کی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔ یاد رہے، آپ پاک فوج کے مشہور زمانہ دستے ایس ایس جی کے بانی کمانڈر ہیں۔ ان کا نعرہ تھا اپنی غربت پر ناز کرو۔
درج بالا کتب کے مطابق میجر جنرل محمد افتخار سرتاپا فوجی تھے۔ خوش مزاج تھے مگر کام کے معاملے میں نہایت سخت۔ عثمان مٹھا نے ازراہِ مزاح لکھا ہے کہ وہ ناشتے میں روزانہ بریگیڈیئر یا لیفٹیننٹ کرنل کچا کھا جاتے تھے۔ لیکن فوج میں نظم و ضبط اسی سختی سے بھی جنم لیتا ہے۔
محمد افتخار علی خان نے ایک پارسی لڑکی کو مسلمان کر کے شادی کی تھی۔ ہندوستانی شاہی فوج میں رہنے کے باعث وہ کسی حد تک مغربی تہذیب میں ڈھل گئے۔ اسی لیے شاہد حامد نے شکایتاً لکھا کہ وہ مقامی افسروں سے کم ہی ملتے۔
مگر پٹودی لکھتے ہیں کہ محمد افتخار کم آمیز اور شرمیلے تھے۔ اسی لیے وہ جلد غیروں سے بے تکلف نہ ہوتے۔ اجنبی اس پر انہیں مغرور سمجھ لیتے۔ ایوب خان انہیں عمدہ فوجی افسر مگر مشکل آدمی اور جلد غصے میں آ جانے والا سمجھتے تھے۔
پٹودی اور شاہد حامد، دونوں تصدیق کرتے ہیں کہ محمد افتخار خان کو کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ پٹودی لکھتے ہیں، شہید نے انہیں خود بتایا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ان سے رابطہ کر کے یہ اطلاع دی۔
پٹودی مزید بتاتے ہیں کہ ایوب خان نے ان سے رابطہ کر کے شہید سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ وہ نئے کمانڈر انچیف کو اچھی طرح جان سکیں، تاہم یہ ملاقات نہ ہو سکی۔ شاہد حامد نے لکھا ہے کہ یہ کھلا راز تھا، محمد افتخار ہی نئے کمانڈر انچیف ہوں گے اور محمد ایوب ان کے بارے میں جاننے کو متجسس رہتے۔
ایوب خان نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ ایک بار وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سرکٹ ہاؤس میں سینئر فوجی افسروں کا اجلاس بلایا۔ اس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک جونیئر افسر بھی کمانڈر انچیف بن سکتا ہے۔ وہ پھر سینئر افسروں سے اس بابت رائے لیتے رہے۔ یہ واقعہ بھی اس حقیقت کا غماز ہے کہ شہید محمد افتخار کو سی اینڈ سی بنانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
لیکن ابھی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تھا کہ وہ حادثے میں شہید ہو گئے۔
شیر علی پٹودی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ محمد افتخار سیاست دانوں کی اقتدار پانے کے لیے سازشوں اور جوڑ توڑ پر مبنی چالوں کو ناپسند کرتے تھے۔ انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ کمانڈر انچیف بنتے تو فوج کو سیاست سے دور رکھتے اور اپنے عہدے کو اقتدار پانے کا ذریعہ نہ بناتے۔
تاہم شاہد حامد نے اپنی کتاب میں یہ لکھا کہ سیاست دانوں کی باہمی لڑائیوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا، اسی لیے محمد افتخار بھی وہی راہ اختیار کرتے جو بعد ازاں محمد ایوب خان کو اپنانا پڑی۔ یہ عیاں ہے کہ دونوں افسروں نے محض اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔
2014ء میں پاکستانی نژاد امریکی محققہ عائشہ جلال کی انگریزی کتاب The Struggle for Pakistan شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے یہ نئی درفطنی چھوڑ دی کہ برطانوی و امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے محمد افتخار کا طیارہ تباہ کیا تاکہ وہ اپنے پسندیدہ جرنیل، ایوب خان کو کمانڈر انچیف بنوا سکیں۔
حادثے کی سرکاری توجیہہ یہ بتائی گئی کہ ہوائی جہاز کا پائلٹ کاروجبل سلسلے کی بلندی کا درست اندازہ نہیں لگا سکا، اسی لیے جہاز پہاڑ سے ٹکرا گیا۔ یہ پرانا ڈی سی تھری ڈکوٹا جہاز تھا جو دوسری جنگِ عظیم میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوا تھا۔ ہوائی کمپنی پاک ایئر کی ملکیت تھا۔ اس حادثے میں 26 افراد شہید ہوئے، جن میں میجر جنرل محمد افتخار علی خان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔



