تحریر: سعدیہ نارو
۲۷ جولائی کو گورو ٹو سے کنکورڈیا جاتے ہوئے سوا ایک بجے کے قریب ہم بالتورو گلیشئیر پر واقع ایک فوجی چوکی پر کچھ دیر آرام کی غرض سے رک گئے۔ وہاں موجود جوانوں نے خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔ برف، پتھروں اور خاموشی کے اس جہان میں ان کے چہروں کی مدھم مسکراہٹ نے جیسے زندگی لوٹا دی۔ چوکی کے خوش اخلاق افسر نے ہمیں چائے کی فراخدلانہ پیشکش کی۔ انہیں سب “استاد جی” بلا رہے تھے۔ وہ ایک دن پہلے ہی ایک بلند پوسٹ سے اس کیمپ سائٹ پہنچے تھے۔ ایسے موسم میں، ایسے مقام پر، چائے ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ جب تک چائے تیار ہوتی رہی، ان جوانوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ انہی میں ایک خوش شکل اور شرمیلا سا نوجوان اویس تھا، جو صوابی کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا تھا اور فوج کے میڈیکل شعبے سے وابستہ تھا۔ باتوں باتوں میں ایک اور جوان بھی آ ملا۔
استاد جی نے مسکراتے ہوئے مجھے اور میرے ساتھی کو کانچ کے کپوں میں چائے پیش کی۔ وہ لمحہ کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ برفیلے میدان کے بیچ گرم چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ، جیسے روح میں زندگی کی حرارت بھر رہی ہو۔ اتنی دیر میں فیصل بھائی بھی پہنچ گئے، تو میں نے مسکرا کر اپنا کپ انہیں تھما دیا۔ چائے کی اس سادہ سی پیشکش نے اس دن کے سفر کو ایک خوبصورت یاد میں بدل دیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ بالتورو جیسے ویران گلیشئیر پر ایسی مہمان نوازی نصیب ہو گی۔ ان جوانوں کے خلوص اور اپنائیت نے دل کو چھو لیا۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھنے کی تیاری کی۔
بالتورو گلیشئیر پر ایک کپ چائے — برف میں بسی یادگار مہمان نوازی



