عقل اور سمجھ

تحریر: عابد حسین قریشی
خود ہنسنا اور خود پر ہنسنا دو مختلف کیفیات ہیں۔ خود پر ہنسنا کافی مشکل اور دوسروں پر ہنسنا آسان بھی اور راحت آمیز بھی۔ خود پر ہنسنے کے لئے ذرا دل گردہ بڑا ہونا ضروری ہے۔ ویسے سب سے بہتر ہے کہ دوسروں پر ہنسنے کی بجائے، دوسروں کے ساتھ ہنسا جائے۔ ساری عمر یا تا دوسروں پر ہنستے رہے یا دوسروں کے ساتھ ، مگر بڑھتی عمر کے شعوری سفر میں یہ بھید بہت دیر بعد کھلا، کہ اپنے اوپر ہنسنے میں زیادہ لطف ہے۔ اپنی چھوٹی بڑی حماقتوں پر، شرارتوں پر, نزاکتوں پر، رقابتوں اور کچھ بھولی بسری رفاقتوں پر، وہ جب جب یاد آئیں، نہ بھی یاد آئیں، تو انہیں کچھ دیر کے لئے یاد کر لیں، جو دل کے پاس ہوتے ہیں، وہ کب بھولتے ہیں، دل کے پاس ہونا اور دل کے اندر ہونا الگ الگ ہے، سنا ہے کہ لوگ دلوں کے اندر بستے ہیں۔ ہمارا دل تو اکیلا ہی جزب و سر مستی میں خوش رہتا ہے۔ یہ کس کے دل میں بسے گا ؟؟ ۔ مگر اس کیفیت کو سمجھنا اتنا آسان تو نہیں۔ ہمارا ایک complex مسئلہ یہ بھی ہے، کہ ہمیں سمجھ دیر سے آتی ہے. بلکہ دھیرے دھیرے آتی ہے ، بعض اوقات تو دیر سے بھی نہیں آتی، مگر ہم سب کچھ سمجھنے اور جاننے کی اداکاری اچھی کر لیتے ہیں۔
عقل اور سمجھ میں بھی فرق ہے۔ ہر عقل مند سمجھ دار نہیں ہوتا، مگر ہر سمجھ دار عقل مند ہوتا ہے، جس طرح ہر خوبصورت صاحب دل نہیں ہوتا، مگر ہر صاحب دل خوبصورت ہوتا ہے۔ باہر سے خوبصورت ہونا ضروری تو نہیں۔ اندر کی خوبصورتی اگر پیدا ہوجائے ، تو سمجھیں قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ انسان ساری عمر سیکھتا ہے، پھر بھی اسکا علم ادھورا رہ جاتا ہے۔ کہ مکمل علم تو میرے اللہ کے پاس ہے۔ وہ جتنا چاہتا ہے، کسی کو عطا کر دیتا ہے۔ ہم علم سیکھ کر بھی شعور ذات کو نہیں پہنچ پاتے۔ ہم سرابوں کے پیچھے رقص کناں رہتے ہیں۔ حقیقت کو نہ مانتے ہیں ، نہ اسکا سامنا۔فرضی قصے کہانیوں کے بل بوتے زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندگی گزارنا اور زندگی بسر کرنا الگ الگ ہیں۔ زندگی اپنی خواہش کے رنگ میں نہ ڈھلے تو گزارنا اور کسی ڈھنگ سے گزرے تو بسر کرنا۔ ہمارا نظام تعلیم بھی تو صرف ڈگری دیتا ہے، شعور کب دیتا ہے۔ شعور تو غور و فکر سے، مشاہدہ سے، حوادث زمانہ سے ، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات سے ، نصابی کتابوں کے علاوہ مطالعہ سے اور سب سے زیادہ اللہ کی کتاب پر غور و فکر سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ قرآن کریم تو بار بار کہہ رہا ہے ، کیا تم شعور نہیں رکھتے، کیا تم تدبر سے کام نہیں لیتے، ہماری عقل محدود مگر شعور و آگاہی کی منزل لمبی بھی ہے اور گہری بھی۔ گہری بات سمجھنے کے لئے عقل کی نہیں سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے، عقل بندے کو تکبر کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ ذات کا شعور اور آگاہی سمجھ سے منسلک ہے،جو انسان میں عاجزی پیدا کرتی ہے، اور عاجز بندہ وہ منازل طے کر جاتا ہے، جو تکبر کے منہ زور گھوڑے پر سوار کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر