مدھوبالا — حسن، درد اور ادھوری محبتوں کی کہانی

مدھوبالا کی زندگی میں آئے سات مرد مگر کوئی بھی انہیں مکمل طور پر اپنا نہ سکا۔ موت کے وقت بھی وہ تنہا تھیں۔ برصغیر کی فلمی تاریخ میں اگر حسن، معصومیت، فن اور درد کو ایک نام دیا جائے تو وہ نام مدھوبالا ہے۔ “ونڈر گرل آف انڈیا”، “ونس ان اے لائف ٹائم بیوٹی” اور “مغلِ اعظم کی انارکلی” جیسے القابات بھی ان کے مقام کی پوری ترجمانی نہیں کرتے، کیونکہ ان کی اصل پہچان ان کی آنکھوں کی خاموشی اور چہرے کا نور تھا جو آج تک کسی اداکارہ میں نہیں دیکھا گیا۔

مگر اس چمکتے چہرے کے پیچھے ایک دلخراش زندگی چھپی تھی۔ ایک ایسی زندگی جسے محبتیں تو بہت ملیں مگر ٹھہراؤ نہ ملا۔ سات مرد ان کی زندگی میں آئے—کوئی عاشق، کوئی دوست، کوئی ہمدرد—مگر انجام میں ہر رشتہ ادھورا رہ گیا اور آخرکار تقدیر نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔

مدھوبالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم دہلوی تھا۔ وہ 14 فروری 1933 کو دہلی میں پیدا ہوئیں۔ غربت، بیماری اور مشکلات ان کے بچپن کا حصہ تھیں۔ خاندان بڑا تھا، آمدنی کم، اور یہی تنگی انہیں ممبئی لے آئی جہاں قسمت نے ان کے لیے شہرت کا راستہ تو رکھا تھا مگر ذاتی زندگی کا سفر درد سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھا مگر اصل پہچان انہیں “محل” (1949) سے ملی۔ پھر “مغلِ اعظم” میں آنارکلی کا کردار ہمیشہ کے لیے ان کا نام بنا گیا۔ اسکرین پر وہ حسن کی دیوی تھیں مگر پردے کے پیچھے بکھرتے رشتوں کا دکھ سہتی ایک حساس عورت۔

ان کی زندگی کی پہلی محبت لطیف تھے، وہی بچپن کے دوست جن کے ساتھ ہنسی، خواب اور معصوم جذبات بانٹے۔ ممبئی ہجرت کے وقت انہوں نے اسے سرخ گلاب دیا جسے لطیف نے برسوں سنبھالے رکھا۔ مدھوبالا کی وفات کے بعد وہ گلاب ان کی قبر پر رکھ آیا۔ ہر سال 23 فروری کو ان کی قبر پر حاضر ہوتا۔ یہ محبت بےلوث تھی مگر زندگی نے آغاز میں ہی جدائی دے دی۔

ممبئی میں انہیں کیدار شرما ملے جنہوں نے ان کی صلاحیت پہچانی، انہیں کام دیا اور سنوارا۔ شرما کے دل میں مدھوبالا کے لیے نرم جذبات پیدا ہوئے مگر یہ محبت یکطرفہ تھی۔ مدھوبالا انہیں استاد کا مقام دیتی تھیں، محبت کی جگہ نہیں۔ یہ رشتہ خاموشی سے ختم ہو گیا۔

فلم “محل” میں کمال امروہوی کے ساتھ کام کے دوران ذہنی قربت نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ گفتگو، اسکرپٹ، دکھ درد… سب کچھ انہیں قریب لاتا مگر کمال امروہوی شادی شدہ تھے اور مدھوبالا کسی کی دوسری بیوی بننے کو تیار نہیں تھیں۔ یوں ایک ذہنی ہم آہنگی پر قائم رشتہ انجام کو نہ پہنچ سکا۔

پریم ناتھ سے ایک مختصر مگر گہرا رشتہ جڑا۔ دونوں نوجوان تھے، خوبصورت تھے اور شہرت کے ابتدائی دور میں تھے۔ چھ ماہ یہ تعلق خوب چلا مگر شادی کے وقت پریم ناتھ نے مذہب تبدیل کرنے کی شرط رکھ دی جسے مدھوبالا نے ٹھکرا دیا۔ وہ اپنے عقیدے اور خاندان سے بےوفائی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایک اور محبت مذہب کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر گئی۔

ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے دردناک عشق دلیپ کمار تھے۔ فلم “ترانہ” سے شروع ہونے والی محبت نو سال چلی، منگنی ہوئی، خواب بنے۔ مگر مدھوبالا کے والد بیچ میں آ گئے۔ “نیا دور” کے تنازع نے رشتے کو توڑ دیا۔ مقدمہ عدالت تک پہنچا۔ اختلافات بڑھتے گئے اور ایک دن یہ بات چیت بھی ختم ہو گئی۔ آخری بار فون پر مدھوبالا نے کہا کہ وہ صرف ایک بار آ کر ان کے والد سے معذرت کر لیں مگر دلیپ کمار نہیں آئے۔ مدھوبالا مہینوں روتی رہیں۔ یہ محبت ان کی روح تک زخمی کر گئی اور وہ اسے زندگی بھر نہ بھول سکیں۔

اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو، جو اس وقت ممبئی میں بیرسٹر تھے، ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے۔ وہ اکثر مغلِ اعظم کے سیٹ پر آتے اور ان سے گفتگو کرتے۔ احترام، ذہنی قربت اور نرمی ضرور تھی مگر مدھوبالا دلیپ کمار کے زخموں سے باہر نہیں آ پا رہی تھیں اور بھٹو اپنی سیاسی امنگوں میں مصروف تھے۔ یوں یہ رشتہ کبھی محبت نہ بن سکا، بس ایک نرم سا سہارا رہا۔

کشور کمار ان کی زندگی کا آخری مرد تھے۔ شادی 1960 میں ہوئی مگر شادی کے چند ہی دن بعد لندن میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے دل میں سوراخ ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دو سال جی سکیں گی۔ یہ خبر دونوں کے لیے شدید صدمہ تھی۔ کشور کمار علاج کرواتے رہے مگر فلمی مصروفیات کے باعث ان کا ساتھ کم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جذباتی طور پر بھی فاصلے پر رہنے لگے تھے تاکہ آنے والے صدمے کو برداشت کرنا آسان ہو سکے۔ مدھوبالا انہیں یاد کرتی رہتیں مگر تنہائی بڑھتی گئی۔ محبت تھی مگر مکمل ساتھ نصیب نہ ہوا۔

23 فروری 1969 کو صرف 36 برس کی عمر میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آخری وقت میں نہ دلیپ تھے، نہ کشور، نہ کوئی پرانا ساتھی۔ صرف گھر والے اور ایک خاموش رخصت۔ دنیا انہیں حسن کی ملکہ کہتی ہے مگر حقیقت میں وہ محبت کی شہزادی تھیں جنہیں کسی نے بھی مکمل طور پر اپنا نہ سکا۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر