امریکہ، سوشل ڈیموکرسی کی تاریخ اور مستقبل

تحریر: آفاق فاروقی

امریکہ میں زوہران ممدانی کی نیویارک سٹی مئیر شپ کے لئیے انتخابی کامیابی کے بعد برنی سینڈر کے سوشل ڈیموکریسی ایجنڈے پر بھی نئے مباحث کا آغاز ہوا ہے اور ایک بڑی اکثریت سمجھتی ہے امریکہ میں سوشل ڈیموکریسی کی مہم نئی یا پہلی سیاسی مہم ہے، سوشلزم کمیونزم خیالات اور انکے نفاذ کے ایجنڈے پر جدوجہد کی تاریخ بتاتی ہے امریکہ میں اس کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہوگیا تھا اور انارکسٹوں سے مارکسٹ لیننسٹ خیالات کے درجنوں گروپ مختلف ریاستوں میں موجود تھے ، ممدانی کا انتخابات میں کامیابی کے بعد ممدانی کا فاتحانہ خطاب سننے والوں نے یہ جملہ یقیناً سنا ہوگا،
“Eugene can see the dawn of a better day for humanity”.
EUugene Victor Debs امریکہ میں سوشلسٹ نظریات پر کام کرنے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کے سرخیل تصور کیے جاتے ہیں اور ٹریڈ یونینسٹ یوجینز سوشلسٹ تحریک کا بانی بھی کہا جاسکتا ہے مگر امریکئہ میں پہلی سوشلسٹ پارٹی Workingmen’s Party of the United States (WPUS)، امریکی آئین بننے سے پہلے 1874 میں قائم ہوئی جسکا نام 1876 میں تبدیل کرکے سوشلسٹ لیبر پارٹی آف نارتھ امریکہ رکھا گیا اور جسکا باقاعدہ آغاز 1877 میں نیوورک نیوجرسی میں ایک کنونشن منعقد کرکے کیا گیا ، اور جس کے پہلے سربراہ Philip Van Patten تھے اور یہ پارٹی ایک جرمن امیگرنٹس جو مارکسٹ لینینسٹ خیالات کا حامی گروپ تھا۔
مگر سوشلسٹ ڈیموکرسی کی تحریک میں روح یوجنیز نے پھونکی جو پہلے 1894 میں سوشلسٹ لیبر پارٹی میں شامل ہوئے اور 1894 کے لیبر ڈے پر تحریک چلانے اور ریاست کی طرف سے گرفتاری اور چھ ماہ کی جیل کاٹنے کے بعد پارٹی سے اختلاف ہوجانے پر سوشلسٹ لیبر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی اور اٹھارہ سو اٹھانوے میں The Social Democratic Party of America بنائی جس کا نام انیس سو ایک میں تبدیل کرکے سوشلسٹ پارٹی آف نارتھ امریکہ رکھ دیا گیا اور اس پارٹی میں پہلی باقاعدہ سوشلسٹ پارٹی سوشلسٹ لیبر پارٹی بھی مرج ہو گئی۔
ٹریڈ یونینسٹ یوجینز فیبس جو اٹھارہ سو ترانوے سے ستانوے تک امریکن ریلوے ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے، اپنی سوشلسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے انیس سو سے انیس سو بیس تک پانچ بار صدارتی الیکشن بھی لڑے اور انیس سو بارہ میں جب امریکہ کی آبادی صرف 95 ملین تھی سوشلٹ پارٹی کی ممبر شپ ایک لاکھ تیرہ ہزار تھی جس کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں تھا اور اور پارٹی کے دفاتر تقریباً ہر بڑے شہر میں تھے۔
1855 میں انڈیا Haute میں پیدا ہونے والے یوجینز، انڈسٹریل ورکرز آف دی ورلڈ فاؤنڈنگ کے اہم ممبر، انہوں نے صدارتی انتخابات میں دو بار نو لاکھ سے زائد ووٹ لیے، جنگ عظیم اول میں امریکہ کی شرکت کی شدید مخالفت کی اور انیس سو سترہ میں جنگ عظیم اول میں امریکی فوجی شرکت کے خلاف ایک تقریر کے الزام میں مقدمہ چلا اور انیس سو اٹھارہ میں انہیں دس سال کی سزا سنادی گئی اور انیس سو اکیس تک وہ جیل میں رہے مگر اس وقت کے امریکی صدر Warren G. Harding نے کرسمس کے موقع پر انکی سزا معاف کردی۔
یوجینز 1885 سے 1887 تک انڈیانا ریاستی اسمبلی کے ممبر رہے اور انڈیا میں ہی 1879 سے 1883 تک سٹی کلرک بھی رہے۔ یوجینز نے جب 1894 میں امریکن لیبر یونین کے سربراہ تھے لیبر ڈے پر مزدوروں کے حقوق کے پسمنظر میں ستائیس ریاستوں میں ایک تاریخی ہڑتال اور احتجاج کیا جس میں ڈھائ لاکھ سے زائد مرد و خواتین مزدوروں نے شرکت کی اور گرفتار ہوئے اور چھ ماہ کی سزا کا سامنا کیا۔
یوجینز مارکسٹ و لیلنسٹ خیالات کے حامی تھے مگر اسٹالن نظریات کے سخت مخالف تھے۔ یوجینز انیس سو چوبیس سے انیس سو چھبیس تک سوشلسٹ پارٹی کے نیشنل چیئرمین بھی رہے۔ یوجینز جنکی بیوی کا نام Kat Netzel تھا کا انیس سو چھبیس میں ریاست ایلے نائے کے شہر شکاگو کے ایک قریبی علاقے میں انتقال ہوا۔
کہا جاتا ہے امریکہ میں ماڈرن ویلفئیر سسٹم انکی اور انکے ساتھیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جو انکے انتقال کے نو سال بعد سوشل سیکورٹی ایکٹ 1935 میں امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ نے جاری کیا جسے امریکی تاریخ میں پہلا قومی فلاحی نظام تصور کیا جاتا ہے۔ اور اسی نظام کے ذریعے سوشل سیکورٹی سے فوڈ اسٹیمپ، صحت کے شعبے، معذورین سے غریبوں تک کی ریاستی مدد کا آغاز ہوا۔
بظاہر یوجینز کی سوشلٹ پارٹی 1972 میں ختم ہوگئی مگر کہا جاتا ہے برنی سینڈر اسی یوجینز کے پیروکار بتائے جاتے ہیں اور یوجینز نے برنی سینڈر روپ میں پھر سے جنم لیا ہے۔ اور جنکے حلقے اثر میں معمر ایلزبیتھ وارن سے زوہران ممدانی، عمر فتح، کانگریس وومن الیگزنڈریا اوُکاسیا، روہن کھنہ اور کوری بش تک لاکھوں نوجوان شامل ہیں۔
ممدانی کی انتخابی کامیابی نے امریکہ میں سوشل ڈیموکریسی کے ایجنڈے میں نئی روح پھونک دی ہے۔ یوجینز جو اٹھارہ سو کی آخری دھائ میں خود بھی ڈیموکریٹس پارٹی کا حصہ رہے آج انکے پیروں کاروں کے جوش و جذبے اور ارادوں کے سامنے ڈھیر پڑی نظر آتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے زوہران ممدانی جو نیویارک سٹی کی مئیر شپ کا انتخاب جیت کر دنیا بھر میں ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ مقبول ہوگیا ہے کے سامنے پوری ڈیموکریٹک پارٹی ماند پڑ گئی ہے۔
مگر یہاں اگر یہ نہ کہا جائے تو سراسر زیادتی ہوگی، سوشلزم جس کی اصل منزل کمیونزم ہے، جس میں فرد کا اپنا کچھ نہیں سب ریاست کا ہوتا ہے اور مخالفین کہتے ہیں کمیونزم انسانوں سے مقابلے کا جذبہ چھین کر انہیں سست کاہل بنادے گی، اور اس نظام کے تحت بھی مخصوص گروہ یا افراد وسائل پر قبضہ کرلیتے ہیں جس کی مثال سابقہ روس ہے۔
اور سوشلزم جس کی آج کی مہذب دنیا میں سب سے بڑی مثال چین ہے جو بظاہر سوشلسٹ چین کہلاتا ہے اور جہاں ابھی نجی کاروبار و املاک رکھنے کے ساتھ جمہوریت کا تڑکہ بھی لگایا جاتا ہے انسانی حقوق کے پسمنظر میں انتہای گھٹن زدہ تصور کیا جاتا ہے۔ سوشلزم جس میں ہر غریب کی بنیادی ضروریات ریاست کی ذمہ داری ہیں افسانہ کہانی سمجھا جاتا ہے۔
سوشلزم جس کا بنیادی نعرہ یا سوشلسٹ فلاسفی کی روح روٹی کپڑا اور مکان ہے اور اسی نعرے سے زوہران ممدانی نے بھی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ آج کے کارپوریٹ ورلڈ میں تقریباً اس نظام کا تصور ناممکن اور کسی خواب پریشاں سے کم نہیں کہ یوں تو ہر غریب امیر سے نفرت کرتا ہے مگر شائد ہی کوئ غریب ہو جو امیر بننے کے خواب نہ دیکھتا ہو۔
جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے نے کبھی کہا تھا غریبی امیری، کالا گورا، کم تر بالادست، اونچ نیچ، کمزور طاقتور کا تصور ہی اگر ختم ہوجائے تو نہ کائنات کی خوبصورتی بدصورتی کی شناخت ممکن ہے نہ ہی زندگی میں ترقی کا تصور قائم رہ سکتا ہے کہ جدوجہد، مقابلہ زندگی کی علامت تو ترقی کا پہلا اور آخری نشان ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے کسی کا پیچھے ہونا ضروری ہے۔
ممدانی کے ایجنڈے میں شامل مکانوں کے کرائے کو فریز کرنے کی مثال اسی نیویارک میں دوسری جنگ عظیم کے دوران موجود ہے پھر کرونا کے دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ Subsidised Food بھی اس وقت تک فراہم کیا جاسکتا ہے جب تک ممدانی مئیر رہیں گے کہ اس ملک میں تیس فیصد کھانے پینے کی اشیا ضائع ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے گاربیج کی جاتی ہیں۔
کسی پیمانے پر انہیں بھی manage کیا جاسکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے زندگی کی ضروریات معذورین تک ہی باہر پہنچائ جاتی رہیں تو غنیمت ہے۔ البتہ مزدور کمزور طبقے کی محنت کی حقیقی اجرت کب ملے گی اور کون دلوائے گا اصل سوال یہ ہے کہ معاشرے کو مفت کی عادت بنانے کی بجائے اسکے حق کے لیے کوشش کرنا مفت فراہم کرنے کے دعوے سے کہیں بڑا نعرہ اور وعدہ ہے۔
کہ اس کے لیے کسی ایک رخ پر دولت کے بہتے دریاؤں پر بند باندھنے کی ضرورت ہے وہ کون باندھے گا؟ عام آدمی کو اس کا انتظار ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر